پیر‬‮ ، 14 ستمبر‬‮ 2026 

شہداء کے جسمانی اعضاء کی بے حرمتی،سندھ حکومت کا حیرت انگیز موقف سامنے آگیا

datetime 18  فروری‬‮  2017 |

کراچی(آئی این پی)شہداء کے جسمانی اعضاء کی بے حرمتی،سندھ حکومت کا حیرت انگیز موقف سامنے آگیا،معمول کے مطابق نوٹس اورتحقیقات کا حکم،کارروائی لمبی چلے گی،وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے سیہون شریف میں دھماکے کے شہداء کے جسمانی اعضاء کو پھینکنے کا نوٹس لیتے ہوئے کمشنر حیدرآباد کو معاملے کی فوری تحقیقات کا حکم دے دیا۔ہفتہ کو وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے سیہون شریف میں دھماکے

کے شہداء کے جسمانی اعضاء کو پھینکنے کا نوٹس لے لیا۔وزیراعلیٰ سندھ نے کمشنر حیدرآباد کو معاملے کی فوری تحقیقات کا حکم دے دیا۔مراد علی شاہ نے کہا کہ جس نے ایسی سنگین غلطی کی اس کو نہیں بخشا جائے گا،میرا دل بہت دکھی ہے۔۔انہوں نے انتظامیہ کو ہدایت کی کہ شہداء کے جسمانی اعضاء جمع کرکے فوری دفن کیے جائیں۔واضح رہے کہ سیہون شریف میں دھماکے کے شہداء کے جسمانی اعضاء دفنانے کے بجائے گندگی میں پھینک دیئے گئے،علاقے میں تعفن کے باعث لوگ کچرے کے گرد جمع ہوگئے،شہداء کے اعضاء کچرے میں دیکھ کر لوگوں میں شدید غم و غصے کی لہر دوڑ گئی،علاقہ مکینوں نے اپنی مدد آپ کے تحت شہداء کے اعضاء کی تدفین شروع کردی۔نجی ٹی وی کے مطابق سیہون شریف میں دھماکے کے شہداء کے اعضاء دفنانے کے بجائے گندگی میں پھینک دیئے گئے جس کے باعث علاقے میں تعفن پھیل گیا جبکہ شہداء کے اعضاء کچرے میں دیکھ کر لوگوں میں شدید غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے ۔ڈی سی جامشورو منور مہسر نے نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جو کچھ ہوا اس پر مجھے بڑا افسوس ہے،یہ اوقاف کا معاملہ ہے،اس سے کوئی پوچھ نہیں رہا،صفائی کے وقت اعضاء وغیرہ ہسپتال پہنچا دیئے گئے تھے۔انہوں نے کہاکہ میری نگرانی میں ہی دربار کی صفائی ہوئی ہے،انسانی اعضاء کچرے میں نہیں پھینکے۔میڈیا میں معاملہ آنے کے بعد انتظامیہ

حرکت میں آگئی اور گندگی سے شہداء کے جسمانی اعضاء اٹھا کر لے گئی جبکہ کچھ اعضاء کی علاقہ مکینوں نے اپنی مدد آپ کے تحت تدفین کردی۔۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)


ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…