ہفتہ‬‮ ، 23 مئی‬‮‬‮ 2026 

موتیوں سے بھرا برتن لے لو اور یہ دانے مجھے دے دو

datetime 17  فروری‬‮  2017 |

حضرت دانیال علیہ السلام ایک دن ایک جنگل میں چلے جاتے تھے کہ آپ کو ایک گنبد نظر آیا اور آواز ائی دانیال!ادھر آ۔ دانیال علیہ السلام اس گنبد کے پاس گئے معلوم ہوا کہ وہ کسی مقبرہ کا گنبد ہےجب آپ مقبرہ کے اندر تشریف لے گئے تو دیکھا بڑی عمدہ عمارت ہے اور عمارت کے بیچ ایک عالیشان تخت بچھا ہوا ہے اس پر ایک بڑی لاش پڑی ہے

پھر آواز آئی کہ دانیال تخت کے اوپر آئو آپ اوپر تشریف لے گئے تو ایک لمبی چوڑی تلوار مردہ کے پہلو میں رکھی ہوئی تھی اس پر یہ عبارت لکھی ہوئی نظر آئی کہ! میں قوم عاد سے ایک بادشاہ ہوں خدا نے مجھےتیرہ سو سال کی عمر عطا فرمائی بارہ ہزار میں نے شادیاں کیں آٹھ ہزار بیٹے ہوئے لاتعداد خزانے میرے پاس تھے اس قدر نعمتیں لے کر بھی میرے نفس نے خدا کا شکر ادا نہ کیا بلکہ الٹا کفر کرنا شروع کر دیا اور خدائی دعوٰی کرنے لگا۔ خدا نے میری ہدایت کے لئے ایک پیغبر کو بھیجا ہرچند انہوں نے مجھے سمجھایا مگر میں نے کچھ نہ سنا انجام کار وہ پیغمبر مجھے بددعا دے کر چلے گئے۔حق تعالٰی نے مجھ پر اور میرے ملک پر قحط مسلط کر دیا جب میرے ملک میں کچھ پیدا نہ ہوا تب میں نے دوسرے ملکوں میں حکم بھیجا کہ ہر قسم کا غلہ اور میوہ میرے ملک میں بھیجا جائے۔ میرے حکم پر ہر قسم کا غلہ اور میوہ میرے ملک میں آنے لگا لیکن جس وقت وہ غلہ یا میوہ میرے شہر کی حد میں داخل ہوتا وہ مٹی بن جانا اور ساری محنت بیکار جاتی اور کوئی دانہ مجھے نصیب نہ ہوتا،اسی طرح سات دن گزر گئے میرے قلعہ سے سارے بیویاں بچے سب بھاگ گئے میں تنہا قلعہ میں رہ گیا سوائے فاقہ کے میری کوئی غذا نہ تھی۔ ایک دن میں نہایت مجبور ہو کر فاقہ کی تکلیف میں قلعہ کے دروازے پر آیا وہاں مجھے ایک شخص نظر آیا جس کے ہاتھ میں غلہ کے کچھ دانے تھے جن کو وہ کھاتا چلا جاتا تھا میں نے اس جانے والے سے کہا ایک بڑا برتن بھرا ہوا موتیوں کا مجھ سے لے لے اور یہ اناج کے دانے مجھے دےدے مگر اس نے نہ سنا اور جلدی سے ان دانوں کو کھا کر میرے سامنے سے چلا گیا انجام یہ ہوا کہ اس فاقہ کی تکلیف سے میں مرگیا ۔ میری نصیحت ہے جو شخص میرا حال سنے وہ کبھی دنیا کے قریب نہ آئے۔ (سیرت الصالحین ص79)

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پانچ سو ڈالر


وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…