بدھ‬‮ ، 23 ستمبر‬‮ 2026 

مذہبی شخصیات کی جانب سے ہزاروں افراد سے جنسی زیادتی کے واقعات نے آسٹریلوی معاشرے کو جھنجھوڑ کررکھ دیا،شرمناک انکشافات

datetime 17  فروری‬‮  2017 |

کینبرا (ئی این پی ) آسٹریلیا میں کیتھولک چرچ نے ماضی میں جنسی زیادتیوں کا شکار ہونے والے افراد کو زر تلافی ادا کرنا شروع کر دیا ،اوسطاہر متاثرہ شخص کو اکانوے ہزار آسٹریلین ڈالر دیے جرمنمیڈیا کے مطابق جن افراد نے جنسی زیادتی کی شکایات درج کرائی انہیں کلیسا نے یہ زر تلافی ادا کرنا شروع کر دیا ہے ۔جنسی زیادتی کا شکار ہونے والے افراد میں آسٹریلوی کیتھولک چرچ نے مجموعی طور پر 213 ملین امریکی ڈالر کے

برابر 276ملین آسٹریلوی ڈالر بطور زر تلافی تقسیم کیے ہیں۔اوسطاہر متاثرہ شخص کو اکانوے ہزار آسٹریلین ڈالر دیے گئے ہیں۔ اس ضمن میں مکمل کی گئی ایک تحقیقاتی رپورٹ میں اس زر تلافی کی ادائیگی کی تفصیلات جاری کی گئی ہیں۔اس تفتیشی رپورٹ کو مرتب کرنے والے رائل کمیشن میں شامل استغاثہ کے ایک وکیل بیرسٹر گیل فرنیس کے مطابق چرچ نے 1980سے لے کر 2015تک زر تلافی کی ادائیگی کا سلسلہ جاری رکھا۔پادریوں اور دیگر کلیسائی شخصیات کی جانب سے کی گئی جنسی زیادتیوں کے ان واقعات نے آسٹریلوی معاشرے کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا تھا۔رواں ماہ کے اوائل میں 4400 سے زائد افراد نے دعوی کیا تھا کہ انہیں بھی بچپن میں جنسی استحصال کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ یہ تعداد ان 30 ہزار سے زائد افراد کی ہے،۔رواں ماہ کے اوائل میں 4400 سے زائد افراد نے دعوی کیا تھا کہ انہیں بھی بچپن میں جنسی استحصال کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ یہ تعداد ان 30 ہزار سے زائد افراد کی ہے، جن کو تلافی کے طور پر کیتھولک چرچ نے ادائیگی کر دی ہے۔ ابھی کئی سو دیگر متاثرین کے دعووں کی چھان بین کی جا رہی ہے۔ اس تفتیشی رپورٹ کو مرتب کرنے والے رائل کمیشن میں شامل استغاثہ کے ایک وکیل بیرسٹر گیل فرنیس کے مطابق چرچ نے 1980سے لے کر 2015تک زر تلافی کی ادائیگی کا سلسلہ جاری رکھا

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…