پیر‬‮ ، 14 ستمبر‬‮ 2026 

’’آپ اپنی بنائی پالیسز کے تحت خود پرائمری ٹیچر نہیں لگ سکتے‘‘ پولیس اہلکار وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف پر پھٹ پڑا ، مناظرے کا چیلنج۔۔۔ویڈیو نے تہلکہ مچا دیا

datetime 17  فروری‬‮  2017 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)سات ماہ سے تنخواہ نہیں ملی، واپڈا والے بجلی کا میٹر کاٹ گئے ،گھر میں راشن تک نہیں، پنجاب پولیس اہلکار وزیراعلیٰ پنجاب پر پھٹ پڑا، مناظرہ کا چیلنج کر دیا۔ تفصیلات کے مطابق سوشل میڈیا پر جاری ویڈیو پیغام میں پولیس اہلکار کا کہنا ہے کہ خلاف میرٹ کاموں کے خلاف آواز بلند کرنے پرمجھے سزا دی جا رہی ہے، میرا چار مرتبہ تبادلہ کیا جا چکا ہےاور مستعفی ہونے کیلئے دبائو ڈالا جاتا رہا ہے۔

پولیس اہلکار نے اپنے حالات بتاتے ہوئے کہا کہ مجھے گذشتہ سات ماہ سے تنخواہ کی ادائیگی نہیں کی گئی ۔ بل کی عدم ادائیگی پر واپڈا نے میرے گھر کابجلی کا میٹر کاٹ دیا ہے۔ادھار پیسے لے کر بل کی ادائیگی کی، میرے گھر میں راشن تک موجود نہیں ہے۔ میرے بچوں کادودھ بند کر دیا گیا ہے میرے نویں جماعت میں زیر تعلیم بچے کو فیس کےپیسے نہ ہونے پراستاد نے ٹیوشن پڑھانے سے انکار کر دیا ہے۔پولیس اہلکار نے وزیراعلیٰ پنجاب پر شدید تنقید کرتے ہوئے پنجاب کی بیوروکریسی کو نا اہل قرار دیا ہے۔ اس نے میاں محمد شہباز شریف سے مخاطب ہوتے ہوئے انہیں مناظرے کا چیلنج دیتے ہوئے کہا کہ اگر میاں محمد شہباز شریف ایجوکیٹر پالیسی کے تحت استاد بھرتی ہونا چاہیں تو وہ پرائمری ٹیچر تک نہیں لگ سکتے،اس نے میاں شہباز شریف کو چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ اگر آپ کو آپ کی پالیسیز کے تحت ملازمت مل جائے تو مجھے بے شک لاہور چوبرجی پر پھانسی دے دی جائے۔اس نے انکشاف کرتے ہوئے بتایا کہ اس کے پاس ایک سیکرٹری کی پندرہ منٹ کی ریکارڈنگ موجود ہے جس میں سیکرٹری نے ایجوکیٹر کی پالیسیوں کے غلط ہونے کا خود اعتراف کیا ہے۔ اس نے میاں محمد شہباز شریف کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کہا کہ آپ اپنے رشتہ داروں کیلئے پالیسیاں تبدیل کرتے ہیں اور آپ کی پالیسیوں کے نتیجے میں تعلیمی اداروں سے فارغ التحصیل ہونے والے طلبا بیروزگاری دیکھ رہے ہیں جس سے تنگ آکر وہ جرائم کی راہ پر چل پڑتے ہیں۔انٹرنیٹ پر وائرل ہوتی اس ویڈیو پر تاحال حکام کی جانب سے کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)


ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…