ہفتہ‬‮ ، 23 مئی‬‮‬‮ 2026 

کمبلوں نے اب ہم لوگوں کو دبوچ لیا ہے

datetime 18  فروری‬‮  2017 |

ایک شخص دریا کے کنارے کنارے جا رہا تھا کہ اسے کوئی چیز تیرتی ہوئی نظر آئی. کچھ صاف نظر نہیں آ رہا تھا کہ یہ چیز کیا ہے.غور سے دیکھنے پر اس شخص کو محسوس ہوا کہ یہ چیز دراصل ایک سیاہ رنگ کا کمبل ہے. اس شخص نے سوچا کہ یہ کمبل کشتی میں سفر کرتے ہوئے کسی مسافر کی غلطی سے دریا میں گر گیا ہے اور چونکہ ارد گرد کوئی انسان نظر نہیں آ رہا  اس لیے وہ یہ کمبل لینے میں حق بجانب ہے.

وہ ابھی سوچ ہی رہا تھا کہ اس کمبل کو کیسے حاصل کرے کہ اچانک کچھ دوراسے ایک آدمی آتا ہوا دکھائی دیا. اس شخص نے سوچا کہ اس سے پہلے کہ وہ دوسرا آدمی بھی کمبل کو دیکھے اور اپنا حق جتائے، مجھے کچھ کرنا چاہئیے. یہ خیال آتے ہی اس شخص نے آؤ دیکھا نہ تاؤ دریا میں چھلانگ لگادی. وہ تیزی سے کمبل کی طرف تیرا اور آناَ فاناَ کمبل کو دبوچ کر اپنی طرف کھینچا. اس کی حیرت کی انتہا نہ رہی جب کمبل نے بھی اسے کھینچنا شروع کر دیا. اس کھینچا تانی میں اس شخص پر یہ عقدہ کھلا کہ یہ کمبل در حقیقت ایک ریچھ ہے جو دریا کے بہاؤ کے ساتھ ساتھ بہتا جا رہا تھا. ریچھ سے جان چھڑانے کے لیے، اس شخص نے ہاتھ پاؤں چلانے شروع کر دیے. اس دوران وہ دوسرا آدمی بھی کنارے تک پہنچ چکا تھا. جب اس نے کمبل والے شخص کو ڈوبتے ابھرتے دیکھا توچلا کر پوچھا کیا تمہیں تیرنا آتا ہے. جواب میں ڈوبتے ہوئے شخص نے بھی چلا کر کہا، ہاں، لیکن یہ کمبل مجھے تیرنے نہیں دے رہا.اس آدمی نے دوبارہ چلا کر کہا، اس کمبل کو چھوڑو اور کنارے کی طرف تیر کر اپنی جان بچاؤ. ڈوبنے والے نے بے بسی کے ساتھ کہا،میں تو کمبل کو چھوڑ رہا ہوں، کمبل مجھے نہیں چھوڑ رہا. ٹھیک اسی طرح آج ہم لوگ بھی دنیا کے دریا میں بہتے کمبلوں سے چمٹ گئے جب ان کی حقیقت آشکار ہوئی تب تک کافی دیر ہوچکی تھی کیونکہ ان کمبلوں نے اب ہم لوگوں کو دبوچ لیا ہے.

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پانچ سو ڈالر


وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…