پیر‬‮ ، 14 ستمبر‬‮ 2026 

پورا پاکستان قبضے میں آسکتا ہے

datetime 15  فروری‬‮  2017 |

امریکہ کے نئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے کچھ جاسوس اسلامی ممالک میں بھیجے تاکہ وہاں کے حالات کو سمجھا جاسکے۔۔دو قابل جاسوس پاکستان کی طرف روانہ کئے گئے۔
وہ پی آئی اے کے جہاز پر پاکستان کا سفر کررہے تھے کہ اچانک جہاز خراب ہوگیا،
پائلٹ نے اعلان کیا کہ جہاز کے چاروں انجن فیل ہوچکے ہیں لیکن آپ کو گھبرانے کی ضرورت نہیں،
کوئی نہ کوئی جگاڑ لگا لیا جائے گا۔

جاسوس جوں ہی پاکستان پہنچے تو دہشت گردوں نے ایئرپورٹ پر حملہ کردیا،
سیکورٹی کی طرف سے اعلان ہوا کہ آپ مت گھبرائیں، بلکہ زمین پر لیٹ جائیں،
کوئی نہ کوئی جگاڑ لگارہے ہیں۔
ایئرپورٹ سے جان بچا کر گاڑی میں ہوٹل جارہے تھے کہ انجن خراب ہوگیا،
ڈرائیور نے کہا کہ گھبرائیں نہیں کوئی جگاڑ لگا لیا جائے گا۔
دونوں جاسوس بمشکل اپنے ہوٹل کی دسویں منزل پر پہنچے تو وہاں آگ لگ گئی،
فائر بریگیڈ نے اعلان کیا کہ پانی کا پریشر آٹھویں منزل تک جارہا ہے، لیکن آپ فکر نہ کریں،
کوئی نہ کوئی جگاڑ لگالیں گے۔
دونوں امریکی جاسوس گھبرا کر دوسرے ہی دن واپس اپنے ملک چلے گئے اور صدر ٹرمپ کو رپورٹ دی کہ پورا پاکستان جگاڑ پر چل رہا ہے،
اگر جگاڑ پر ہمارا قبضہ ہو جائے،
تو پورا پاکستان قبضے میں آسکتا ہے۔
صدر ٹرمپ نے وزیر اعظم کو فون کیا کہ،
جگاڑ کا کتنا مانگتا ہے۔۔؟
حکومت نے جواب دیا کہ،
ہم آپ کو جگاڑ فروخت نہیں کرسکتے،
یہاں خود حکمران نے قطری شہزادے کے خط کا جگاڑ لگایا ہوا ہے۔۔
——-

رام سنگھ”؟
پنجاب کے علاقے میں پاک بھارت سرحد پر جھڑپیں جاری تھیں۔ بھارتی فوج سکھوں پر مشتمل تھی۔ رات اتنی کالی تھی کہ ہاتھ کو ہاتھ سجھائی نہ دیتا تھا۔ اب خالی خولی فائرنگ کا کیا فائدہ!
پاکستانی فوجیوں نے مشورہ کیا کہ اب کیا کیا جائے!!! ایک ذہین فوجی نے کہا کہ سکھوں میں اکثر نام ‘رام سنگھ ‘ ہوتا ہے۔ ہم میں سے وقفے وقفے سے “رام سنگھ” کا نام لے کر آواز دیں گے، جدھر سے آواز آئے گی، گولی مار دیں گے۔
میٹنگ ختم ہوئی، سب نے اپنی پوزیشنیں سنبھال لیں۔ ایک فوجی نے آواز لگائی: “رام سنگھ۔ ادھر سے جواب آیا: “ہاں”۔ ساتھ ہی ایک ٹھاہ کی آواز بلند ہوئی اور رام سنگھ مارا گیا۔
چند منٹ بعد پھر ایک فوجی کی آواز آئی: “رام سنگھ”۔ جواب آیا: “ہاں”۔ ساتھ ہی ٹھاہ۔
جب چار پانچ رام سنگھ ڈھیر ہو گئے تو سکھوں نے بھی میٹنگ بھلا لی۔ ایک ذہین سکھ فوجی نے مشورہ دیا کہ ہم بھی ان کے ساتھ وہی کرتے ہیں جو انہوں نے ہمارے ساتھ کیا۔ مسلمانوں میں اکثر نام “اللہ رکھا” ہوتا ہے۔ وقفے وقفے سے آوازیں لگا کر ان کے سارے اللہ رکھے مار دیتے ہیں اور اپنا بدلہ لے لیتے ہیں۔
ذہین سکھ فوجی کا یہ مشورہ سب نے بہت پسند کیا اور اسے کندھوں پر اٹھا لیا۔ میٹنگ کے بعد سب نے اپنی پوزیشنیں سنبھال لیں۔ تھوڑی دیر کے بعد اسی ذہین سکھ فوجی نے آواز لگائی: “اللہ رکھا”۔
ادھر سے جواب آیا: “اللہ رکھا چھٹی پر ہے۔ تم کون ہو، رام سنگھ”؟ اس نے کہا: “ہاں”۔ ساتھ ہی آواز آئی ٹھاہ اور ذہین سکھ فوجی مارا گیا۔
——-

اوے شیدے
تین دوست سینما میں فلم دیکھنے گئے، وہاں کچھ کرسیاں چھوڑ کر اُنکے آگے ایک گنجا شخص آ کے بیٹھ گیا۔ فلم کے دوران ہی اِن تینوں کو شرارت سوجھی اور انہوں نے ایک دوسرے سے شرط لگائی کہ ہم میں سے جو بھی دوست اِس گنجے کے سر پر زور سے ہاتھ مارے گا اُسے پانچ سو روپے ملیں گے۔۔۔!!! آخر ایک دوست تیار ہوگیا۔۔!!
وہ اُس گنجے شخص کے پاس گیا اور زور سے اُس کے سر پر ہاتھ مارتے ہوئے بولا، “او شیدے! کیا حال ہے تیرا۔۔؟”
گنجے شخص نے گھوم کر اُس کی طرف دیکھا اور غصے میں بولا، “ھیلو! تمہیں غلط فہمی ہوئی ہے، میں شیدا نہیں ہوں۔۔!”
۔”اوھووو! سوری”۔۔۔!! اتنا کہہ کر وہ واپس آ گیا اور پانچ سو روپے لے لیے۔
کچھ دیر بعد دوسرے دونوں دوستوں نے اپنے اِس دوست کو پھر اُکسایا کہ اگر اب کی بار تم اُس کے سر پر ہاتھ مارو گے تو ہزار روپے ملیں گے، پہلے تو وہ تھوڑا سا ہچکچایا لیکن پھر راضی ہوگیا۔
اِس بار اُس نے گنجے کے سر پر ہاتھ مارتے ہوئے کہا، “دیکھو یار! مذاق مت کرو، مجھے پتہ ہے تم شیدا ہی ہو۔۔۔!!!”
اِس بار تو وہ گنجا شخص غصے سے لال پیلا ہو گیا اور اپنی کرسی سے اُٹھتے ہوئے بولا، “تمہیں ایک بار کہا کہ میں شیدا نہیں ہوں تو تمہیں سمجھ نہیں آتی۔۔!”۔
وہ دوست “سوری” کہہ کر پھر واپس اپنی سیٹ پر آگیا اور اُسے ہزار روپے مل گئے، اِس دوران وہ گنجا شخص غصے میں ہال سے اُٹھ کر اوپر باکس میں جا کر بیٹھ گیا۔
اِس بار پھر دونوں دوستوں نے اُسے کہا اگر اب کی بار تم اُسے مار کے آؤ تو تمہیں پندرہ سو روپے ملیں گے۔، تھا تو بہت مشکل لیکن وہ پھر ہمت کر کے باکس میں جا پہنچاوہاں اُس کے سر پر زور سے ہاتھ مارتے ہوئے بولا، “اوے شیدے! تم یہاں باکس میں بیٹھے ہوئے ہو میں نیچے ہال میں پتہ نہیںکس کو مارتا رہا ہوں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)


ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…