پیر‬‮ ، 14 ستمبر‬‮ 2026 

خودکش حملہ ، ٹیکسی ڈرائیور نے ایسا کیا کیا کہ لوگ عش عش کر اٹھے؟ جان کر آپ بھی خراج تحسین پیش کئے بغیر نہ رہ سکیں گے

datetime 15  فروری‬‮  2017 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) حادثات اور سانحات لوگوںکو کیسے ایک دوسرے کے ساتھ جوڑ دیتے ہیں اور وہ کیسے ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں اس کی تازہ مثال سانحہ لاہور کے خودکش دھماکے کے دوران دیکھنے کو ملی جب ایک ٹیکسی ڈرائیور نے ایک خاتون کے محافظ کا کردار اداکیاجبکہ کریم اور اوبر ٹیکسی سروس نے خون کے عطیات دینے والوں کو ہسپتالوں تک فری سروس فراہم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے پروموکوڈز متعارف کرا دئیے

اور اپنے دیگر مہنگے آرڈرز منسوخ کر دئیے ہیں۔منیرامہدی نامی خاتون نے سوشل میڈیا پر تمام کہانی سناتے ہوئے کہا ہے کہ کیسے کریم ٹیکسی سروس کا ڈرائیور اس کیلئے ایک ایسے مشکل اور دردناک وقت میں خطرے سے بھرپور علاقے میں کھڑا ہوگیااور ناقابل یقین طور پرمحافظ کا کردار ادا کیا۔ منیرا نے سوشل میڈیا پر کریم ٹیکسی سروس کے نام اپنے پیغام میں لکھا ہےکہ ’میں آپ کی توجہ آپ کے ہی ایک محافظ فرشتے کی طرف مبذول کراناچاہتی ہوں جس کا نام عاصم مصطفی ہے جس نے کریم کے کپتان کا بہروپ دھار رکھاہے، میں دھماکے سے چند لمحے قبل مال روڈ سے جوہرٹاؤن کیلئے گاڑی میںٹیکسی میں بیٹھی تھی کچھ سفر طے کیا ہی تھا کہ دھماکے کی خبر ملی ، اب ڈرگئی تھی کہ اب واپس اپنی رہائش جو ہوٹل میں تھی پر کیسے پہنچوں گی کیونکہ وہ ہوٹل دھماکے کی جگہ کے بالکل پاس ہے جبکہ شہرمیں اجنبی اکیلی خاتون تھی ۔مسافر ہونے کی وجہ سے مجھے بحفاظت واپس پہنچنے کی پریشانی تھی، میں نے ڈرائیور کو واپس مڑ کر اسی مقام پر چھوڑنے کی درخواست کی جہاں سے اٹھایاتھا تودھماکے کا علم ہونے کے باوجودوہ فوری رضامندہوگیا،مجھے کراچی میں اپنے عزیزوں اور دفتری ساتھیوں سے فون کالز کا سلسلہ جاری تھا لیکن میری امیدیں ایک اجنبی شخص سے تھیں جو کہ ایک کار ڈرائیورتھا،

میں نے دعاؤں کا سلسلہ جاری رکھا کہ اس نے اپنا فیصلہ نہیں بدلہ اوررائیڈ ختم کرتے ہوئے مجھے واپس چھوڑ دیا‘۔مال روڈ کئی سومیٹرز تک ہرطرف سے سیل تھا لیکن ڈرائیور نے ہرممکن حدتک مختلف راستوں سے ہوتے ہوئے مجھے ہوٹل کے قریب ترین مقام پر چھوڑنے کی کوشش کی لیکن وہاں کوئی راستہ نہیں تھا لہٰذا اس نے گاڑی ایک طرف پارک کی اور جیسے ہی میں نے پیدل اپنے ہوٹل پہنچنے کا سوچاتو ڈرائیور نے کہا’باجی آپ فکر نہ کریں،

آپ میری ذمہ داری ہیں،میں آپ کو پیدل ڈراپ کرکے آؤں گا، چاہے کچھ بھی ہوجائے ، میں آپ کو صحیح سلامت پہنچاؤں گا‘ اور پھر گاڑی سے باہر نکل آیا اور تقریباً 10منٹ تک پیدل چلتے رہے جس کے بعد میں اپنی منزل پر پہنچ گئی جبکہ اسے بھی اس خطرناک علاقے کو جلد ازجلد چھوڑنے کے لیے مسلسل ٹیلی فون کالز آرہی تھیں لیکن اس کے باوجود مجھے بحفاظت اپنی جگہ پر پہنچایا، میرے پاس شکراداکرنے کے لیے الفاظ نہیں ہیں، الحمد للہ۔میری دعا ہے کہ اسے اس نیکی کا اجراس زندگی اور آخرت میں ملے ۔آمین

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)


ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…