اتوار‬‮ ، 13 ستمبر‬‮ 2026 

ان جج صاحب کو مسجد میں۔۔۔۔۔ عدالت کی جانب سے ویلنٹائن ڈے پر پابندی لگتے ہی عاصمہ جہانگیر میدان میں آگئیں کیا کچھ کہہ دیا ؟ جان کر یقین نہیں کریں گے

datetime 15  فروری‬‮  2017 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)پنجاب میں بسنت کی اجازت نہ ملنے اور ویلنٹائن ڈے منانے پر عدالتی پابندی کو بہت سے لوگوں نے جہاں سراہا وہیں ملک کی کچھ اہم شخصیات نے اسے تنقید کا نشانہ بھی بنایا ہے۔حکومت اور عدالت کے ان فیصلوں کو ہدف تنقید بنانے والوں میں معروف قانون دان عاصمہ جہانگیربھی شامل ہیں جن کو ان کی تنقید پر سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اس وقت خفت اور عجیب حالات کا سامنا کرنا پڑ گیا جب انہوں نے

اپنے جذبات کا اظہارکرتے ہوئے حکومت اور عدالت کے فیصلوں کو تنقید کی تو جواب میں ان کے پیغام پر ایک صارف نے ترکی بہ ترکی جواب دیتے ہوئے ان کی بیٹی نمبر ہی مانگ لیا تاہم عاصمہ جہانگیرنے بھی پھر ایسا جواب دیا کہ آپ کی ہنسی نہ رکے گی۔ عاصمہ جہانگیر نے ٹوئٹر پر جاری ایک پیغام میں پتنگ بازی پر لوگوں کی گرفتاری اور اسلام آباد ہائیکورٹ کی جانب سے ویلنٹائن ڈے منانے پر پابندی کے فیصلوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ”ہوشیار! پرامن پاکستانی پتنگ بازی پر گرفتار ہوں گے، ہائیکورٹ نے ویلنٹائن ڈے منانے سے بھی منع کر دیا ہے۔۔۔ بس آپ اگلے دھماکے کا انتظار کریں۔“ عاصمہ جہانگیر کے اس ٹویٹ پر ایک ٹوئٹر صارف نے جواب دیا کہ ”برائے مہربانی مجھے اپنی بیٹی کا نمبر دیدیں، میں انہیں ویلنٹائن ڈے کی مبارکباد دینا چاہتا ہوں۔“ عاصمہ جہانگیر نے ٹوئٹر صارف کے اس جواب کو یکسر نظرانداز کرتے ہوئے خوشگوار موڈ میں جواب دیا کہ ”پہلے مجھے تو مبارکباد دیدو۔“صارف بھی پیچھے رہنے والوں میں سے نا تھا اور فوراً جواب دیا کہ ”ہیپی ویلنٹائن ڈے آنٹی جی! “ اور اس کے ساتھ ہی یہ بھی یاد دلا دیا کہ میں آپ کے جواب کا انتظار کر رہا ہوں مگر فون نمبر کیساتھ۔واضح رہے کہ اس سے قبل عاصمہ جہانگیر کا لاہور ہائیکورٹ کے ویلنٹائن ڈے پا پابندی کے فیصلے پر ایک بیان سامنا آچکا ہے جس میں ان کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ قانون کے مطابق نہیں دیا گیا ، جج صاحب کو عدالت نہیں بلکہ مسجد میں خطیب ہونا چاہئے تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)


ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…