پیر‬‮ ، 01 جون‬‮ 2026 

ان جج صاحب کو مسجد میں۔۔۔۔۔ عدالت کی جانب سے ویلنٹائن ڈے پر پابندی لگتے ہی عاصمہ جہانگیر میدان میں آگئیں کیا کچھ کہہ دیا ؟ جان کر یقین نہیں کریں گے

datetime 15  فروری‬‮  2017 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)پنجاب میں بسنت کی اجازت نہ ملنے اور ویلنٹائن ڈے منانے پر عدالتی پابندی کو بہت سے لوگوں نے جہاں سراہا وہیں ملک کی کچھ اہم شخصیات نے اسے تنقید کا نشانہ بھی بنایا ہے۔حکومت اور عدالت کے ان فیصلوں کو ہدف تنقید بنانے والوں میں معروف قانون دان عاصمہ جہانگیربھی شامل ہیں جن کو ان کی تنقید پر سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اس وقت خفت اور عجیب حالات کا سامنا کرنا پڑ گیا جب انہوں نے

اپنے جذبات کا اظہارکرتے ہوئے حکومت اور عدالت کے فیصلوں کو تنقید کی تو جواب میں ان کے پیغام پر ایک صارف نے ترکی بہ ترکی جواب دیتے ہوئے ان کی بیٹی نمبر ہی مانگ لیا تاہم عاصمہ جہانگیرنے بھی پھر ایسا جواب دیا کہ آپ کی ہنسی نہ رکے گی۔ عاصمہ جہانگیر نے ٹوئٹر پر جاری ایک پیغام میں پتنگ بازی پر لوگوں کی گرفتاری اور اسلام آباد ہائیکورٹ کی جانب سے ویلنٹائن ڈے منانے پر پابندی کے فیصلوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ”ہوشیار! پرامن پاکستانی پتنگ بازی پر گرفتار ہوں گے، ہائیکورٹ نے ویلنٹائن ڈے منانے سے بھی منع کر دیا ہے۔۔۔ بس آپ اگلے دھماکے کا انتظار کریں۔“ عاصمہ جہانگیر کے اس ٹویٹ پر ایک ٹوئٹر صارف نے جواب دیا کہ ”برائے مہربانی مجھے اپنی بیٹی کا نمبر دیدیں، میں انہیں ویلنٹائن ڈے کی مبارکباد دینا چاہتا ہوں۔“ عاصمہ جہانگیر نے ٹوئٹر صارف کے اس جواب کو یکسر نظرانداز کرتے ہوئے خوشگوار موڈ میں جواب دیا کہ ”پہلے مجھے تو مبارکباد دیدو۔“صارف بھی پیچھے رہنے والوں میں سے نا تھا اور فوراً جواب دیا کہ ”ہیپی ویلنٹائن ڈے آنٹی جی! “ اور اس کے ساتھ ہی یہ بھی یاد دلا دیا کہ میں آپ کے جواب کا انتظار کر رہا ہوں مگر فون نمبر کیساتھ۔واضح رہے کہ اس سے قبل عاصمہ جہانگیر کا لاہور ہائیکورٹ کے ویلنٹائن ڈے پا پابندی کے فیصلے پر ایک بیان سامنا آچکا ہے جس میں ان کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ قانون کے مطابق نہیں دیا گیا ، جج صاحب کو عدالت نہیں بلکہ مسجد میں خطیب ہونا چاہئے تھا۔



کالم



لکڑی کا تختہ


خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…