پیر‬‮ ، 14 ستمبر‬‮ 2026 

ویلنٹائن ڈے منانے والے ہوشیار! بڑا فیصلہ کرلیاگیا،انتظامیہ کو حکم جاری

datetime 13  فروری‬‮  2017 |

اسلام آباد (این این آئی)اسلام آباد ہائی کورٹ نے سرکاری سطح پر اور عوامی مقامات پر ویلنٹائن ڈے کو منانے اور میڈیا پر اس کی تشہیر کرنے سے روک دیا ہے اور اسلام آباد کی انتظامیہ کو حکم دیا ہے کہ وہ عوامی مقامات پر ویلنٹائن ڈے کو منانے سے روکے۔یہ عبوری حکم اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے اسلام آباد کے شہری عبدالوحید کی درخواست پر دئیے۔

عدالت نے اپنے حکم میں پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) کے حکام سے کہاکہ میڈیا کو ایسے پروگرام کی کوریج سے بھی روکا جائے۔درخواست گزار نے موقف اختیار کیا تھا کہ چونکہ پاکستان اسلام کے نام پر قائم ہوا ہے اس لیے اس ملک میں ایسے کسی بھی تہوار کو نہیں منایاجاسکتا جو اسلامی روایات کے خلاف ہو۔اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر کی گئی اس درخواست میں درخواست گزار کا کہنا تھا کہ ویلنٹائن ڈے اسلامی روایات کے خلاف ہے اس لیے اس تہوار کو ملک میں منانے کی اجازت نہ دی جائے۔درخواست گزار کا کہنا تھا کہ اس تہوار کے منانے سے بڑے پیمانے پر مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوتے ہیں اس لیے عدالت کے پاس ایسے کسی کو اقدام کو روکنے کا اختیار حاصل ہے جس کی وجہ سے کسی کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچنے کا احتمال ہو۔درخواست گزار کا کہنا تھا کہ اس نام نہاد تہوار کو منانے کیلئے پبلک مقامات پر پروگرام ترتیب بھی دے دئیے گئے ہیں۔اْنھوں نے کہا کہ اس تہوار کو منانے کے لیے مارکیٹوں میں قائم دکانوں کو نہ صرف سجایا گیا بلکہ وہاں پر ویلنٹائن ڈے کے حوالے سے کارڈ اور پھول بھی رکھے گئے ہیں۔درخواست گزار نے ٹی وی چینلز کے بارے میں کہا کہ وہ ماضی میں اس دن کے حوالے سے ایسے پروگرام چلائے ہیں جس کی وجہ سے لوگ اس دن کی مناسبت سے اپنے پروگرام مرتب کررہے ہیں۔

درخواست میں وفاق سمیت پیمرا، پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی اور اسلام آباد کی انتظامیہ کو فریق بنایا گیا ہے۔عدالت نے اس درخواست میں بنائے گئے فریقوں سے دس روز میں جواب طلب کرلیا ہے۔عدالت نے کہاکہ ہمارے ہاں لال رومال کی تحریک چلی اور وہاں لال گلاب کی ٗعوامی مقامات اور سرکاری سطح پر کسی کو ویلنٹائن ڈے منانے کی اجازت نہیں اور الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا فوری طورپر ویلنٹائن ڈے سے متعلق تشہیر کوروک دے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)


ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…