پیر‬‮ ، 08 جون‬‮ 2026 

پاکستان سپر لیگ فکسنگ سکینڈل پربھارت میں حیرت انگیز ردعمل

datetime 11  فروری‬‮  2017 |

اسلام آباد (آئی این پی )پاکستان سپر لیگ 2017 کے آغاز پر ہی پاکستانی کرکٹرز شرجیل خان اور خالد لطیف کے مبینہ طور پر بک میکرز کے ساتھ روابط کی خبر نے سب کو ہی حیران کر دیا ہے اور سوشل میڈیا پر شائقین کرکٹ نے اس پر اپنا رد عمل ظاہر کیا ۔ شرجیل خان اور خالد لطیف اسلام آباد یونائیٹڈ کے سکواڈ کا حصہ تھے اور ان دونوں کھلاڑیوں کے خلاف یہ کارروائی ایک بین الاقوامی سنڈیکیٹ سے مبینہ طور پر ان

کے رابطے کے بعد عمل میں آئی ہے جو پاکستان سپر لیگ کو متاثر کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ اس خبر کے منظرعام پر آتے ہی یہ دونوں نام پاکستان میں ٹوئٹر پر ٹرینڈ کرنے لگے۔ جو صارفین لاہور قلندرز اور کوئٹہ گلیڈیئٹرز کے درمیان اس وقت کھیلے جانے والے میچ پر تبصرے کر رہے تھے انھوں نے بھی میچ بھول کر اس خبر پر تبصرہ شروع کر دیا۔ پاکستان سپر لیگ کے چیئرمین نجم سیٹھی نے بھی ٹوئٹر کا سہارا لیتے ہوئے کچھ یہ پیغام پہنچایا کہ پی ایس ایل میں کھیل کو خراب کرنے والے کاموں کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ کسی بھی بڑے یا چھوٹے کو چھوٹ نہیں۔ ہمیں پاکستان کے اس اثاثے کا تحفظ کرنا چاہیے۔شرجیل خان اور خالد لطیف کی معطلی کی خبر پر انڈین صحافی وکرنت گپتا نے ٹویٹ میں حیرانی کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ پاکستانی کھلاڑیوں شرجیل خان اور خالد لطیف پر ‘فکسنگ’ کے الزامات میں پاکستان سپر لیگ میں پابندی حیران کن خبر ہے۔ایک اور صارف نے لکھا کہ ‘ان دونوں کھلاڑیوں کی معطلی کا فیصلہ درست ہے، اسے برداشت نہیں کیا جانا چاہیے جبکہ ایک صارف محمد باقر نے انتہائی جذباتی انداز میں لکھا کہکیوں شرجیل اور خالد لطیف کیوں؟’۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تلوم اور تلوم سے آگے


ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…