ہفتہ‬‮ ، 08 اگست‬‮ 2026 

پھر ٹھن گئی،روس نے تین ترک فوجی مارڈالے،ترکی مشتعل،پیوٹن کا حیرت انگیزردعمل

datetime 10  فروری‬‮  2017 |

انقرہ /دمشق /ماسکو (آئی این پی) شام کے شمالی علاقے میں روسی لڑاکا طیاروں کی بمباری سے ترکی کے 3 فوجی ہلاک اور 11 زخمی ہوگئے جبکہ واقعے پر روسی صدر پیوٹن نے معافی مانگتے ہوئے ترک صدر طیب اردگان کو فون کرکے واقعے پر افسوس کا اظہار کیا۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق روسی وزارت دفاع نے اس بات کی تصدیق کی کہ شام کے شمالی علاقے میں روسی لڑاکا طیاروں کی کارروائی میں 3 ترکی فوجی ہلاک اور 11 زخمی ہوگئے۔ترک اخبار روزنامہ حریت نے بھی واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے لکھا کہ ایک روسی جنگی طیارے نے الباب کے علاقے میں صبح 8 بجکر 40 منٹ پر اس عمارت کو نشانہ بنایا جہاں ترک فوجی رہائش پذیر تھے’۔کریملن کے پریس سیکریٹری دمتری پیسکو کی جانب سے جاری بیان کے مطابق’واقعے کے بعد روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے ترک صدر رجب طیب اردگان کو فون کیا اور واقعے پر افسوس کا اظہار کیا’۔پیسکو نے بتایا کہ روسی طیاروں نے غلطی سے ترک فوجیوں کو نشانہ بنادیا جس پر انتہائی افسوس ہے۔اس کے علاوہ روسی فوج کے جنرل اسٹاف ویلیری گیراسیموف نے بھی اپنے ترک ہم منصب ہلوسی اکار کو فون کیا اور واقعے پر افسوس کا اظہار کیا۔گیراسیموف کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ روسی طیارہ الباب میں داعش کے ٹھکانوں کو نشانہ بنارہا تھا۔دونوں فوجی سربراہان نے شام میں موجود ترک و روسی فوجیوں کے درمیان معلومات کے تبادلے اور تعاون کو بڑھانے پر بھی اتفاق کیا۔گیراسیموف اور اکار نے واقعے کی مشترکہ تحقیقات پر بھی اتفاق کیا۔خیال رہے کہ نومبر 2015 میں ترک فضائیہ نے روس کے ایس یو 24 بمبار طیارے کو مار گرایا تھا جو کہ شام میں انسداد دہشت گردی آپریشن میں مصروف تھا۔

اس واقعے میں ایک روسی پائلٹ ہلاک ہوگیا تھا جبکہ روس نے اس کے بعد ترکی پر متعدد اقتصادی پابندیاں عائد کردی تھیں۔بعد ازاں ترک صدر رجب طیب اردگان نے شامی سرحد پر روسی طیارے کو گرائے جانے کے واقعے پر روس سے معافی مانگی تھی جس کے بعد دونوں ملکوں کے تعلقات معمول پر آگئے تھے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)


میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…