جمعہ‬‮ ، 04 ستمبر‬‮ 2026 

پاکستان کا قومی ترانہ دو کشمیری نوجوانوں کے سازوں پر،سننے والوں پر سحر طاری

datetime 11  فروری‬‮  2017 |

سری نگر(آئی این پی) قومی ترانہ ہر ملک کی عزت اور احترام کا باعث ہوتا ہے، پاکستان کا قومی ترانہ ہمارے لیے فخر اور احترام کی علامت ہے ، قومی ترانہ کسی بھی موقع پر پیش کیا جاتا ہے تو یہ ملی جوش وجذبہ بڑھاتا ہے۔اب پاکستان کے قومی ترانہ دو کشمیری نوجوانوں نے کشمیر کے علاقائی سازوں سنتوز اور باب کے ساتھ بجایا ہے،اور ان سازوں نے پاکستان کے قومی ترانے کو چار چاند لگا دئیے۔دو کشمیری نوجوانوں عمر مجید اور زبیر احمد نے اپنے موسیقی کے آلات کے ساتھ پاکستان کا قومی ترانہ نہایت شاندار انداز میں پیش۔

 

ہندوستان ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق یہ دونوں نوجوان عمر مجید کے والد کے موسیقی کے ادارے میں میوزک سیکھ رہے تھے، جب کسی نے انہیں پاکستان کے قومی ترانے کو پرفارم کرنے کا مشورہ دیا۔عمر نے کہا نے کہ جب سے اْس نے پاک سرزمین پرفارم کیا ہے تو میرا موبائل بند نہیں ہو رہا،اس پہلے ہمارا پاکستان کے قومی ترانے پر پرفارم کرنے کا ارادہ نہیں تھا۔یہ دونوں کشمیر ی نوجوان ہندوستان کے قومی ترانے پر بھی جلد پرفارمنس دینے کا ارادہ رکھتے ہیں

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)


ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…