پیر‬‮ ، 14 ستمبر‬‮ 2026 

کراچی ایئرپورٹ پرمسافرکرنسی سمگلنگ کرتے پکڑاگیا،گرفتاری کے بعد اہم سرکاری ادارے نے اس کوکیوں چھوڑدیا؟انوکھے انصاف کی نرالی مثال

datetime 9  فروری‬‮  2017 |

کراچی(این این آئی)کسٹمز انٹیلی جنس کے سپرنٹنڈنٹ نے انوکھا انصاف کرتے ہوئے کرنسی اسمگل کرنے والے مسافر کے قبضے سے برآمد ہونے والے 50 ہزار ڈالر میں سے 40 ہزار ڈالر (تقریبا43 لاکھ روپے)خود رکھ کر مسافرکو بغیر مقدمہ درج کئے چھوڑ دیا۔افسر محمد افضل نے اسمگلر کو 8گھنٹے تک ریجنل آفس میں رکھا، تاہم اطلاع ملنے پر کسٹمز انٹیلی کی تاریخ میں انوکھی کارروائی عمل میں لائی گئی اور کسٹمز انٹیلی جنس ٹیم نے اپنے افسر کے گھر پر چھاپہ مارا اور 18ہزار 900ڈالر کی رقم برآمد کرکے اسے گرفتار کرلیا

۔تفصیلات کے مطابق ڈائریکٹر جنرل کسٹمز انٹیلی جنس شوکت علی کی اطلا ع پر کسٹمز انٹیلی جنس کراچی کی ٹیم نے جناح انٹرنیشنل ایئرپو ر ٹ پر تعینات اپنے ہی ایک سپرنٹنڈنٹ محمد افضل کو گرفتار کرکے مقدمہ درج کرلیا ہے۔کسٹمز انٹیلی جنس کی جانب سے درج کئے جانے والے مقدمے کے مطابق5 فروری کو محمد یاسین نامی مسافر فلائٹ نمبر Fz-332سے دبئی جانے کیلئے ایئر پورٹ پہنچا۔ ایئرپورٹ پراسکینگ اور امیگریشن کے بعد جب وہ انٹرنیشنل روانگی کیلاؤنج میں انتظار کر رہا تھا تو اسے کسٹمز انٹیلی جنس کیافسرمحمد افضل نے اسے پکڑا اور بعد ازاں اسے کسٹمز انٹیلی جنس کے ریجنل آفس میں لے آیا جہاں پر 8 گھنٹے تک اسے رکھنے کے بعد ڈرا دھمکا کرچھوڑ دیا گیا۔ادھر ڈائریکٹر جنرل شوکت علی کو اطلاع ملی کہ ایک مسافر نے بڑی مقدار میں کرنسی اسمگل کرنے کی کوشش کی ہے، لیکن اسے گرفتار کر کے چھوڑ دیا گیا ہے۔ ڈی جی کے نوٹس لیے پر کسٹمز انٹیلی جنس کی ایک خصوصی ٹیم نے مسافر کو دوبارہ گرفتار کرلیا۔مسافر نے دوبارہ گرفتاری پر انکشاف کیا کہ اس کے پاس 50 ہزار ڈالر کے مساوی سعودی ریال تھے جوکہ 10 ہزار ڈالر کے مساوی 5پیکٹ کی شکل میں اس نے پاس رکھے تھے۔ کسٹمز انٹیلی جنس کے محمد افضل نے اس کو گرفتاری اور تمام کرنسی ضبط کرنے کی دھمکی دے کر 4پیکٹ اپنے پاس رکھ لئے اور ایک پیکٹ اسے واپس کر دیا۔اس پر کسٹمز انٹیلی جنس کی ٹیم نیاپنے افسر محمد افضل کے گھر پر چھاپہ مارکر 18ہزار 900 ڈالر کے مساوی رقم برآمد کرلی اور مقدمہ درج کر کے ملزم افضل کو بھی گرفتار کر لیا۔کسٹمز انٹیلی جنس کی جانب سے اپنے ہی افسر کیخلاف کارروائی کسٹمز انٹیلی جنس تار یخ کی انوکھی کارروائی ہے۔ ذرائع کے مطابق ملزم نے غلطی کا اعتراف کرتے ہو ئے ڈی جی سے معافی کی درخواست کی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)


ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…