پیر‬‮ ، 08 جون‬‮ 2026 

میڈیکل کی فیلڈ میں ایسی چیز ایجاد جو ہر خطرے کا آپ کو پہلے ہی بتا دے

datetime 10  فروری‬‮  2017 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)انسان کی زندگی میں کام کی بہت اہمیت ہے اور کام کاج کے دوران جوٹ یا زخم لگنا عام بات ہے اور جب سے بینڈیج آئی ہے اس کا استعمال اور ہماری زندگی میں بہت آسانی ہو گئی ہے لیکن انسان اپنی سہولیات کیلئے نت نئی ایجادات کرتا رہتا ہے ۔برطانوی سائنسدانوں نے زخموں

پر لگائی جانے والی ایسی پٹی تیار کی ہے جو رنگ بدل کر کسی بھی انفیکشن سے خبردار کرسکتی ہے۔ اسے اسمارٹ بینڈیج کا نام دیا گیا ہے جو زخم، جلنے اور ناسور پر لگنے کی صورت میں خطرناک انفیکشن میں گہری پیلی رنگت اختیار کرلیتی ہے۔ اس سے زخم کو مزید بگڑنے اور اس کی پیچیدگیوں کو بھی روکا جاسکتا ہے اور اس سے وقت اور رقم کی بچت بھی ہوسکتی ہے۔ اس وقت زخم کی خرابی بتادینا والا نظام بھی 48 گھنٹے کا وقت لیتا ہے اور اس کے لیے پوری بینڈیج کھولنا پڑتی ہے جو ایک تکلیف دہ عمل ہوتا ہے تاہم اب ماہرین نے برطانیہ بھر کے کئی بڑے ہسپتالوں میں اسمارٹ پٹی کی آزمائش شروع کردی ہے جو نرم پٹی اور سخت پلاسٹر کی صورت میں بھی لگائی جاسکتی ہے۔ واضح رہے کہ زخم کا انفیکشن ختم ہونا ضروری ہے ورنہ وہ اینٹی بایوٹکس ادویات کو بے اثر بناسکتا ہے۔
اس پٹی میں بہت باریک نینو کیپسول لگائے گئے ہیں جن میں روشنی خارج

کرنے والی ڈائی بھری گئی ہے۔ جیسے ہی زخم میں انفیکشن والے بیکٹیریا پیدا ہوتے ہیں کیپسول پھٹ پڑتے ہیں اور ان کا واضح پیلا رنگ نمایاں ہوجاتا ہے تاہم یہ کیپسول جلد کے عام بیکٹیریا سے سرگرم نہیں ہوتے۔ پروفیسر ٹوبی جینکنس نے اس پر کام کیا ہے اور انہیں یقین ہے کہ اس سے معالجے میں بہت مدد ملے گی اور مریضوں کی مشکلات میں بہت کمی واقع ہوگی۔ اسی طرح دوسرے ڈاکٹروں نے بھی اس کام کو سراہا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تلوم اور تلوم سے آگے


ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…