پیر‬‮ ، 14 ستمبر‬‮ 2026 

شریف برادران کے وفد کی طاہرالقادری سے ملاقات،حیرت انگیزانکشافات

datetime 7  فروری‬‮  2017 |

اسلام آباد (آئی این پی)پاکستان عوامی تحریک کے قائد ڈاکٹر محمد طاہر القادری نے کہا ہے کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن استغاثہ کیس کے حوالے سے ہمارا بنیادی موقف اور مطالبہ سانحہ کے مرکزی ملزمان شریف برادران کو طلب کرنا ہے جو نہیں کیا گیا تاہم ان کی طلبی کے لیے اپنا قانونی حق استعمال کریں گے۔ بکروں کا صدقہ نہیں چلے گا امید ہے پولیس والے صولت مرزا کی طرح بے وقت نہیں بولیں گے، انہیں انصاف حاصل کرنے کے لیے بروقت بولنا ہو گا۔ وکلاء سے بریفنگ لینے کے بعد فیصلے پر تفصیلی بات کروں گا ۔

انہوں نے مرکزی رہنماؤں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اے ٹی سی نے آئی جی سے لے کر سانحہ میں ملوث کانسٹیبل تک کو طلب کر لیا مگر غیر قانونی حکم دینے والے حکمرانوں کو طلب نہیں کیا گیا ۔ حکمرانوں کے غیر قانونی احکامات پر آنکھیں بند کر کے عمل کرنے والے پولیس افسران اور اہلکاروں کے لیے یہ کھلا پیغام ہے کہ شریف برادران نے انہیں اپنے سیاسی مفاد کیلئے استعمال کیا ۔ انہوں نے کہا کہ شریف برادران کے غیر قانونی احکامات پر عمل کرنے والے اب بے گناہوں کو قتل کرنے کی سزا بھگتیں گے۔ ابھی بھی وقت ہے کہ پولیس افسران پورا سچ بول دیں اور سانحہ ماڈل ٹاؤن کے مرکزی ملزمان کے بارے میں قانون اور عوام کو آگاہ کر دیں ورنہ شریف برادران پھانسی کے پھندے پولیس والوں کے گلے میں فٹ کروانے کے حوالے سے کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے پہلے بھی یہ کہا کہ شریف برادران کے بھیجے گئے نمائندے جن میں وزراء بھی شامل تھے اور ان کے خاندان کے افراد بھی شامل تھے، انہوں نے صرف اور صرف شریف برادران کی معافی، تلافی کے لیے درخواست کی، کسی موقع پر بھی انہوں نے سانحہ میں ملوث پولیس افسران یا اہلکاروں کو معافی دینے کی بات نہیں کی۔ اس لیے ہم پہلے دن سے یہ کہہ رہے ہیں کہ شریف برادران بکروں کی قربانی پر یقین رکھتے ہیں۔ لیکن ہم بکروں کی قربانی پر اکتفا نہیں کریں گے جب تک بکروں کی ماں کٹہرے میں نہیں آئے گی

انہوں نے کہا کہاس وقت تک قانونی، سیاسی جدوجہد جاری رہے گی اور قاتل حکمران سن لیں انصاف کے دروازے مکمل طور پر بند ہوتے ہوئے دکھائی دئیے تو پھر قصاص تحریک کے دوسرے راؤنڈ کا اعلان ہو گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اب طلب کیے جانے والے ملزمان میں سے کئی بیمار ہوں گے، کئی فرار ہوں گے، کسی کو سٹنٹ پڑیں گے اور کوئی بچنے کیلئے ’’سٹنٹ‘‘ کرے گا

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)


ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…