ہفتہ‬‮ ، 23 مئی‬‮‬‮ 2026 

حضرت زید بن حارثہؓ

datetime 6  فروری‬‮  2017 |

حضرت زید بن حارثہؓ زمانہ جاہلیت میں اپنی والدہ کے ساتھ ننھیال جا رہے تھے۔ بنوقیس نے وہ قافلہ لوٹا جس میں حضرت زید بھی تھے اور ان کو مکہ میں لا کر بیچ دیا۔ حکیم بن حزام نے اپنی پھوپھی سیدہ خدیجتہ الکبریٰ کیلئے خرید لیا۔ جب سیدہ خدیجہؓ کا نکاح نبی علیہ السلام سے ہوا تو انہوں نے زیدؓ کو نبیﷺ کی خدمت میں بطور ہدیہ پیش کیا۔ زیدؓ کے والد کو ان کی جدائی کا بڑا صدمہ تھا۔

اولاد کی محبت فطری چیز ہوتی ہے چنانچہ وہ زید کے فراق میں روتے اور اشعار پڑھتے۔
’’میں زید کی یاد میں رو رہا ہوں اور یہ بھی نہیں جانتا کہ وہ زندہ ہے جو اس کی امید رکھوں یا مردہ ہے کہ اس سے مایوس ہو جاؤں۔ اے زید! اللہ کی قسم مجھے یہ بھی معلوم نہیں کہ تمہیں نرم زمین نے ہلاک کیا یا کسی پہاڑ نے ہلاک کیا‘‘۔
’’کاش مجھے یہ معلوم ہو جاتا کہ تو عمر بھر میں کبھی بھی واپس آئے گا یا نہیں ساری دنیا میں میری انتہائی غرض تیری واپسی ہے‘‘۔
’’جب آفتاب طلوع ہوتا ہے تو مجھے زیدؓ ہی یاد آتا ہے اور جب بارش ہونے کو آتی ہے تو بھی اس کی یاد ستاتی ہے‘‘۔
’’اور جب ہوائیں چلتی ہیں تو بھی اس کی یاد کو بڑھاتی ہیں‘ ہائے میرا غم اور میری فکر کتنی طویل ہو گئی‘‘۔
’’میں اس کی تلاش میں تیز رفتار اونٹ کو کام میں لاؤں گا اور ساری دنیا کا چکر لگانے سے باز نہیں آؤں گا‘‘۔
’’چلتے والے اکتاتے ہیں تو اکتائیں مگر میں نہیں اکتاؤں گا‘ ساری زدگی اسی طرح گزاروں گا‘‘۔
’’ہاں میری موت آ گئی تو وہ اور بات ہے کہ وہ ہر چیز کو فنا کرنے والی ہے خواہ ان کی کتنی امیدیں لگائے‘‘

میں اپنے رشتہ داروں کو وصیت کر جاؤں گا کہ وہ بھی زیدؓ کو ڈھونڈتے رہیں۔
غرض یہ اشعار پڑھ کر روتے رہے اتفاق سے ان کی قوم کے چند لوگوں کا حج پر جانا ہوا تو انہوں نے زیدؓ کو پہچانا۔ باپ کی داستان سنائی اور شعر سنائے۔ حضرت زیدؓ نے اس کے جواب میں تین شعر لکھ بھیجے جن کا مطلب یہ تھا کہ میں مکہ میں ہوں۔ ان لوگوں نے جا کر زیدؓ کی باتیں ان کے والد کو سنائیں اور اشعار بھی سنائے پتہ بھی بتایا ان کے والد اور چچا فدیہ کی رقم لے کر ان کو غلامی سے چھڑانے کی خاطر مکہ پہنچے۔ نبیﷺ کی خدمت میں عرض کیا ہاشم کی اولاد اور اپنی قوم کے سردار آپ لوگ مسجد حرام کے رہنے والے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے گھر کے پڑوسی ہیں۔ آپ قیدیوں کو رہا کراتے ہیں‘ بھوکھوں کو کھانا کلاتے ہیں۔ ہم اپنے بیٹے کی طلب میں آپؐ کے پاس آئے ہیں۔ آپؐ فدیہ لے کر اس کو رہا کریں۔ آپ کا ہم پر احسان ہو گا۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا کہ بس اتنی سی بات ہے کہنے لگے جی بس یہی عرض ہے۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا اس کو بلا لو اور پوچھ لو اور اگر وہ تمہارے ساتھ جانا چاہے تو بغیر فدیہ کے تمہاری نذر ہے اور اگر وہ نہ جانا چاہے تو میں ایسے شخص پر جبر نہیں کرنا چاہتا جو خود نہ جانا چاہے۔ انہوں نے کہا کہ آپؐ نے استحقاق سے زیادہ ہم پر کرم کیا۔ یہ بات بخوشی منظور ہے۔ حضرت زیدؓ بلائے گئے‘ نبی علیہ السلام نے رمایا کہ میرا حال بھی تمہیں معلوم ہے اب تم کو اختیار ہے کہ میرے پاس رہنا چاہو تو رہو اور ان کے ساتھ جانا چاہو تو اجازت ہے۔ حضرت زیدؓ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہﷺ میں آپ کے مقابلے میں بھلا کس کو پسندکر سکتا ہوں۔ آپؐ میرے لئے باپ کی جگہ بھی ہیں اور چچا کی جگہ بھی۔

ان دونوں باپ چچا نے سمجھایا کہ زیدؓ آزادی پر غلامی کو ترجیح دے رہے ہو۔ باپ‘ چچا اور سب گھر والوں کے مقابلے میں غلام رہنے کو پسند کرتے ہو۔ حضرت زیدؓ نے کہا کہ ہاں میں نے آپؐ میں ایسی بات دیکھی ہے کہ اس کے مقابلے میں کوئی چیز پسند نہیں کر سکتا۔ نبی علیہ السلام نے جب یہ جواب سنا تو ان کو اپنی گود میں لے لیا اور فرمایا کہ میں نے اس کو اپنا بیٹا بنا لیا۔ زیدؓ کے باپ اور چچا یہ منظر دیکھ کر خوش ہوئے اور واپس چلے گئے۔ (تاریخ خمیس)
* حضرت سائب بن یزیدؓ یہ روایت کرتے ہیں کہ میں اپنے لڑکپن میں بیمار پڑا میری خالہ مجھے آپؐ کی خدمت میں لے گئی۔ آپؐ نے میرے سر پر ہاتھ پھیرا اور برکت کی دعا کی۔ اس کے بعد آپؐ نے وضو کیا میں نے جب کچھ پانی بچا ہوا دیکھا تو اسے پی لیا۔ عجیب بات ہے کہ بچوں میں بھی حصول برکت کا اتنا شوق تھا۔
* ایک مرتبہ نبی علیہ السلام تشریف لے جا رہے تھے کہ آپؐ نے کچھ بچوں کو ایک جگہ جمع دیکھا‘ ایک لڑکا ان کے درمیان میں اذان دیتے ہوئے حضرت بلالؓ کی نقل اتار رہا تھا اور دوسرے بچے ہنس رہے تھے۔ آپؐ کو دیکھ کر سب بچے سہم گئے۔ نبی علیہ السلام نے بڑے بچے ابومحذورہ کو اشارے سے اپنی طرف بلایا۔

جب وہ قریب آیا تو آپؐ نے اس کے پیشانی کے بالوں سے اسے پکڑ لیا اور فرمایا کہ مجھے بھی وہی اذان سناؤ جو تم دوسروں کو سنا رہے تھے۔ پہلے تو ابومحذورہ نے عذر پیش کرنے کی کوشش کی مگر جلدی احساس ہو گیا کہ اذان سنا کر جلدی جان چھوٹ جائے گی جب سناتے سناتے اشھد ان محمد رسول اللہ پر پہنچے تو دل کی حالت بدل گئی۔ اذان ختم ہونے پر نبی علیہ السلام نے فرمایا اچھا جاؤ۔ کہنے لگے کہاں جاؤں اب جہاں آپؐ جائیں گے ابومحذورہ وہیں جائے گا۔ اس کے بعد ابومحذورہ نے اپنی پیشانی کے بال عمر بھر نہ کٹوائے۔ تبرک کے طورپر اس یادگار کو قائم رکھا۔
حضرت عبداللہ بن مسعودؓ لڑکپن کی عمر میں نبی علیہ السلام کی خدمت میں مامور تھے۔ جب نبی علیہ السلام کہیں جاتے تو وہ آپؐ کو جوتے پہناتے۔ پھر آگے آگے عصا لے کر چلتے آپؐ مجلس میں بیٹھنا چااہتے تو آپؐ کے پاؤں مبارک سے جوتے نکالتے۔ آپؐ نہاتے تو پردہ کرتے‘ آپؐ سوتے تو بیدار کرتے جب آپؐ سفر پر جاتے تو بچھونا‘ مسواک‘ جوتا اور وضو کا پانی ان کے ساتھ ہوتا اسی لئے وہ نبی علیہ السلام کے میر سامان کہے جاتے تھے۔

* تین لڑکے نبی علیہ السلام کی خدمت میں پیش پیش رہے اور تینوں کا نام عبداللہ تھا۔ نبی علیہ السلام ان کی محبت اور وارفتگی کو دیکھتے تو ان کیلئے تہجد کی نماز کے بعد نام لے کر دعائیں کرتے۔ اس کانتیجہ یہ نکلا کہ تینو ں بڑے ہو کر اپنے اپنے فن کے امام بنے۔ عبداللہ بن مسعودؓ امام فقہاء بنے‘ عبداللہ بن عباسؓ امام مفسرین بنے‘ عبداللہ بن عمرؓ امام محدثین بنے۔
* حضرت ربیعہ اسلمیؓ بھی شب میں نبی علیہ السلام کی خدمت میں مشغول رہتے تھے۔ جب آپﷺ عشاء کی نماز سے فارغ ہو کر روزانہ گھر تشریف لے جاتے تو ربیعہ دروازے پر بیٹھ جاتے کہ مبادا آپﷺ کو کوئی ضرورت پیش آئے تو خدمت کیلئے حاضر رہوں۔ جب ربیعہ جوان ہو گئے تو نبی علیہ اسلام نے مشورہ دیا کہ شادی کر لیں۔ انہوں نے عرض کیاکہ پھر آپؐ کی خدمت میں اتنا وقت نہیں دے سکوں گا۔ کچھ عرصہ اپنی شادی کو ٹالتے رہے جبکہ نبی علیہ السلام پیار سے مشورہ دیتے رہے بالآخر نبی علیہ السلام کی طبیعت اور انشراح کو دیکھتے ہوئے شادی کر لی۔
* حضرت زہرہ بن سعدؓ کو ان کی والدہ بچپن سے ہی نبی علیہ السلام کی خدمت میں لائیں‘ عرض کیا کہ اسے بیعت کر لیجئے۔ نبی علیہ السلام نے فرمایا ابھی تو بچہ ہے ان کے سر پر ہاتھ پھیرا اور برکت کی دعا دی۔ حضرت عبداللہ بن عمرؓ اور حضرت عبداللہ بن زبیرؓ ان کو جب بھی دیکھتے‘ محبت کرتے اور دوستی کا اظہار کرتے۔ وجہ صرف یہ تھی کہ ان کو نبی علیہ السلام نے برکت کی دعا دی تھی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پانچ سو ڈالر


وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…