مشہور روایت ہے کہ حضرت حذیفہ بن الیمانؓ فارس تشریف لے گئے‘ دعوت کھانے کے دوران ایک لقمہ نیچے گر گیا انہوں نے اس لقمہ کو اٹھایا اور صاف کر کے کھالیا‘ بعض نے کہا یہاں کے امراء اس عادت کو ناپسند کرتے ہیں آپؓ نے یہ لقمہ اٹھایا اور صاف کر کے کھایا‘ فرمانے لگے‘ کیا میں ان احمقوں کی خاطر اپنے آقا اور محبوبﷺ کی سنت کو چھوڑ دوں۔
سوچئے تو سہی صحابہ کرامؓ نے ایک ایک سنت پر کتنی محبت سے عمل کیا‘ وہ علم کے بھی وارث بنے‘ عمل کے بھی وارث بنے‘ احوال کے بھی وارث بنے‘ آپؐ کی ظاہری اداؤں کے بھی وارث بنے‘ اسی طرح یہ عمل صحابہؓ علم سے امت تک آگے پہنچا جس طرح میرے آقاﷺ دنیا میں اس کو دے گئے تھے۔
میرا سر آقائے مدنیﷺ کے مشابہ ہو جائے
ایک صحابیؓ حبشہ کے رہنے والے تھے‘ وہ جب بھی نہا کر نکلتے تو ان کا جی چاہتا تھا کہ میں بھی اپنے سر میں اسی طرح درمیان میں مانگ نکالوں‘ جس طرح نبی علیہ السلام نکالا کرتے ہیں لیکن حبشی نژاد ہونے کی وجہ سے ان کے بال گھنگریالے‘ چھوٹے اور سخت تھے‘ اس لئے ان کی مانگ نہیں نکل سکتی تھی‘ وہ اس بات کو سوچ کر بڑے اداس رہتے تھے کہ میرے سر کو میرے محبوبﷺ کے مبارک سر کے ساتھ مشابہت نہیں ہے ایک دن چولہاجل رہا تھا انہوں نے لوہے کی سلاخ لے کر اسے آگ میں گرم کیا اور اپنے سر کے درمیان میں اس سلاخ کو پھیر لیا‘ گرم سلاخ کے پھرنے سے ان کے بال بھی جلے اور جلد بھی جلی‘ اس سے زخم بن گیا۔ جب زخم درست ہوا تو ان کو اپنے سر کے درمیان میں ایک لکیر نظر آتی تھی‘ لوگوں نے کہا تم نے اتنی تکلی کیوں اٹھائی؟ وہ فرمانے لگے کہ میں نے تکلیف تو برداشت کر لی ہے لیکن مجھے اب اس بات کی بہت زیادہ خوشی ہوتی ہے کہ میرے سر کو اب محبوبؐ کے مبارک سر کے ساتھ مشابہت نصیب ہو گئی ہے۔



















































