حضرت مولانا پیر ذوالفقار احمد نقشبندی نے ایک واقعہ سنایا کہ 1973ء کی بات ہے کہ ایک آدمی اس عاجز کو ملنے آیا وہ سولہ سال سے مسلسل روزے رکھ رہا تھا‘ میرے دوست بڑے حیران ہوئے کہ یہ سولہ سال سے مسلسل روزے رکھ رہا ہے میں نے کہاکہ یہ کام اتنا مشکل نہیں ہے وہ کہنے لگے کیسے مشکل کام نہیں ہے‘ سردی‘ گرمی‘ صحت ‘ بیماری‘ سفر‘ حضر میں ہروقت روزے سے رہنا بہت مشکل ہے۔
میں نے کہا اچھا اس سے پوچھ لیں چنانچہ انہوں نے اس بندے سے سے پوچھا کہ کیا آپ کو روزہ رکھنے میں کوئی دقت پیش آتی ہے؟ وہ کہنے لگا نہیں‘ پھر وہ مجھے کہنے لگے کہ یہ کیا معاملہ ہے؟ میں نے کہا کہ یہ اس کی عادت بن گئی ہے‘ کچھ لوگ دن میں تین دفعہ کھانا کھاتے ہیں اور کچھ لوگ صبح و شام دو دفعہ کھاتے ہیں اسی طرح آپ یوں سمجھیں کہ یہ بھی دن میں دو دفعہ کھاتے ہیں‘ ایک سحری کے وقت اور ایک دفعہ افطاری کے وقت۔ لہٰذا ان کی یہ عادت بن گئی ہے۔ میں نے کہاکہ ان سے کہیں کہ جی آپ صوم داؤدی رکھیں یعنی ایک دن روزہ رکھیں اور دوسرے دن ناغہ کریں۔ چنانچہ انہوں نے ان سے پوچھا کہ کیا آپ صوم داؤدی رکھ سکتے ہیں؟ تو انہوں نے کہا کہ نہیں میں ایسا نہیں کر سکتا۔ انہوں نے پوچھا وہ کیوں؟ وہ کہنے لگے اس لئے کہ یہ تو میری عادت بن گئی ہے اور دن کے وقت اب میرا کچھ کھانے کو دل ہی نہیں کرتا‘ اگر میں ایک دن کھاؤں اور ایک دن روزہ رکھوں تواس میں میرے نفس پر زیادہ بوجھ ہو گا جو کہ میرے لئے بہت مشکل ہے۔ میں نے کہا دیکھو یہ جو اپنی مرضی سے مجاہدہ کرتے ہیں وہ کام آسان ہے لیکن حدیث میں جو طریقہ آیا ہے اس کے مطابق کام کرنا اس کیلئے بہت مشکل ہے۔



















































