پیر ذوالفقار نقشبندی نے ایک واقعہ سناتے ہوئے بتایا کہ ایک مرتبہ فیصل آباد سے ایک خاتون آئی میری اہلیہ نے مجھے کہا کہ اس کی بات ضرور سنیں بڑی پریشان ہے اور جب سے آئی ہے رو رہی ہے اس کو ٹائم دیا‘ پردے میں بیٹھ کر بات کرنے لگی کہ میرا خاوندبڑی مل کا مالک ہے ‘ امیر آدمی ہے‘ کھلا پیسہ ہے‘ شادی کے سات آٹھ سالوں میں کوئی اولاد نہیں ہے مگر یہ پریشانی کی بات نہیں
کیونکہ خاوند میرے ساتھ خوشی کی زندگی گزار رہا ہے ہم دونوں کو اس کی وجہ سے کوئی پریشانی نہیں قسمت میں ہوئی تو ہو جائے گی‘ نہیں تو جو اللہ کو منظور خاوند مجھے بہت چاہتا ہے محبتوں والی زندگی گزار رہے ہیں گھر کا سارا خرچ خاوند نے اپنے ذمے لیا ہوا ہے۔ نوکروں کا خرچہ‘ باورچی کا خرچہ‘ گارڈ کا خرچہ‘ مالی کا خرچہ‘ یہ تمام اخراجات سب میرا خاوند ادا کرتا ہے گاڑیاں ہیں‘ ڈرائیور ہیں‘ کاریں ہیں‘ بہارمیں ہیں‘ روٹی ہے‘ بوٹی ہے‘ اللہ نے یوں تو زندگی میں ہر سہولت دی ہے میری پریشانی یہ ہے کہ میرا خاوند مجھے میرے ذاتی خرچ کے لئے ہر مہینے صرف پچاس ہزار روپے دیتا ہے جس سے میرے خرچے پورے نہیں ہوتے یہ کہہ کر وہ عورت رونے لگ گئی‘ کہ شاید میرے جیسا پریشان دنیا میں کوئی نہیں ہو گا‘ وہ ایسے زارو قطار رو رہی تھی جیسے کسی کی وفات پر کوئی رویا کرتا ہے۔
اس عورت کو اس عاجز نے یہ بات سمجھائی کہ آپ کی پریشانی ختم ہونے والی نظر نہیں آتی‘ آپ کا خاوند آپ کو پچاس ہزار کی بجائے ایک لاکھ روپے ماہانہ بھی دینا شروع کر دے تو پھر بھی آپ کی پریشانی ختم نہیں ہو گی۔
دو لاکھ بھی دے دے پھر بھی نہیں ہوگی‘ پانچ لاکھ بھی ہر مہینے دے دے پھر بھی پریشانیاں ختم نہیں ہوں گی۔ وہ بڑی حیران ہو کر کہنے لگی کہ پیر صاحب! آپ مجھے بات سمجھائیں کیونکہ مجھے تو کچھ نہیں آ رہی کہ آپ کیا کہہ رہے ہیں‘ عاجز نے کہا کہ اگر آپ چاہتی ہیں تو اپنی زندگی کو شریعت کے مطابق ڈھالیں‘ معصیت سے خالی زندگی اختیار کریں‘ آپ نے گناہوں بھری زندگی سے اللہ تعالیٰ کو ناراض کر لیا ہے‘ آئندہ آپ سنت والی زندگی اختیار کر کے اپنے خالق حقیقی کو راضی کر لیں۔ آپ کے مال میں برکت آئے گی تو آپ کی پریشانیاں خود بخود دور ہو جائیں گی۔ آپ کثرت مانگ رہی ہیں کہ وہ پچاس ہزار دیتا ہے تو ایک لاکھ دینا شروع کر دے لیکن یاد رکھنا کہ پھر بھی پریشانیاں رہیں گی‘ میں نے یہ بات کہی تو اللہ تعالیٰ نے بات میں برکت رکھ دی لہٰذا کہنے لگی کہ میں سچی توبہ کرنا چاہتی ہوں۔ میں نے اس کو تہب کے کلمات پڑھا کے رخصت کیا۔ الحمدللہ تین چار مہینوں کے بعد وہ بذریعہ فون کہنے لگی کہ اب میں نماز کی پابند ہو گئی ہوں‘ برقع میں نے کر لیا ہے لیکن ایک بات بڑی عجیب ہے کہ اب میرے مہینے کے خرچے پندرہ ہزار میں پورے ہو جاتے ہیں اور میری باقی رقم یتیموں اور بیواؤں کے اوپر خرچ ہوتی ہے۔



















































