امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ سے کسی نے سوال پوچھا کہ حضرت! سیدناامیر معاویہؓ کا درجہ بڑا ہے یا عمر بن عبدالعزیز کا‘ عمر بن عبدالعزیز بعد کے دورکے تھے اور خلیفہ عادل تھے جبکہ سیدنا امیر معاویہؓ کے زمانہ میں بہت لڑائیاں رہیں اور انہی جنگوں کی وجہ سے حالات پرامن نہ تھے‘ اس لئے اس آدمی نے دو شخصیات کے بارے میں سوال کیا۔ امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ نے ایسا جواب دیا جو سونے کی روشنائی سے لکھنے کے قابل ہے۔
فرمایا ’’جب سیدنا امیر معاویہ نبی اکرمﷺ کے ہمراہ جہاد کیلئے نکلے اور ان کے گھوڑے کے نتھنوں میں جو گرد اور مٹی جا پڑی۔ عمر بن عبدالعزیز سے اس مٹی کا رتبہ بھی بڑا ہے۔
حضرت گنگوہی رحمتہ اللہ علیہ حضرت امداد اللہ رحمتہ اللہ علیہ کی صحبت میں
حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی رحمتہ اللہ علیہ حضرت امداد اللہ مہاجر مکی رحمتہ اللہ علیہ کی خدمت میں پہچے اور کہنے لگے‘ حضرت! اوراد و اشغال والا کام تو ہم سے ہوتا نہیں‘ حضرت نے فرمایا کہ اچھا نہ کرنا‘ مگر ہم یہ کہتے ہیں تین دن اور تین راتیں یہاں ٹھہر جاؤ‘ کہنے لگے‘ حضرت! ٹھیک ہے۔ تین راتیں ٹھہروں گا مگر تہجد میں مجھ سے نہیں اٹھا جئے گا‘ جی کرے گا تو اٹھوں گا ورنہ نہیں۔ حضرت حاجی صاحب نے فرمایا یہ بھی ٹھیک ہے۔ شاگرد کو بلا کر کہا کہ رشید احمد کی چارپائی میری چارپائی کے قریب ڈال دینا۔
رات کو حاجی صاحب رحمتہ اللہ علیہ اٹھے‘ لا الہ الا اللہ کا ورد کرنا شروع کر دیا‘ حضرت گنگوہیؒ فرماتے ہیں کہ میری آنکھ کھلی‘ مجھے اتنا مزہ آیا کہ میں نے بھی اٹھ کر تہجد پڑھی اور پاس بیٹھ کر لا الہ الا اللہ کی ضرب لگانا شروع کر دی تین دن کیلئے رکے تھے مگر تیس دن تک وہاں ٹھہرے رہے جب وہاں سے رخصت ہونے لگے تو حضرت حاجی صاحبؒ نے ان کو اجازت وخلافت عطا فرما دی‘ یہ ہے صحبت کے ذکر کا اثر اور فائدہ کہ چند دن میں خلعت خلافت سے سرفراز ہو گئے۔



















































