نبی علیہ السلام کی خدمت میں ایک نوجوان آیا اس نے بلاواسطہ آ کر عرض کیا اے اللہ کے نبیؐ مجھے زنا کی اجازت دیجئے‘ اس کے جواب کا ایک طریقہ تو یہ تھا کہ اللہ کے نبیﷺ غصے میں آ جاتے اور فرماتے کہ تم حرام کو حلال کروانے آ گئے‘ تمہیں شرم نہیں آتی لیکن نہیں‘ بلکہ اللہ کے محبوبؐ نے ارشاد فرمایا: کیا تم یہ چاہتے ہو کہ کوئی تمہاری والدہ سے یہ حرکت کرے‘ کہنے لگا نہیں‘ پوچھا! بیوی سے کرے؟
کہنے لگا نہیں‘ بہن سے کرے‘ کہنے لگا نہیں‘ بیٹی سے کرے‘ کہنے لگا نہیں پھر آپﷺ نے ارشاد فرمایا کہ تم جس سے زنا کرو گے وہ یا تو کسی کی ماں ہو گی‘ یا کسی کی بیوی ہو گی‘ یا کسی کی بہن ہو گی‘ یا کسی کی بیٹی ہو گی‘ اگر تم اس کو پسند نہیں کرتے تودوسرے لوگ بھی تو اسے پسند نہیں کرتے۔ جب اتنا سمجھایا تو اس کے ذہن میں بات آ گئی لیکن فقط سمجھانے سے بات سمجھ میں نہیں آتی کیونکہ دل کے اندر جذبات کا طوفان ہوتا ہے‘ عقل سمجھ بھی لے تو کیا فائدہ جب تک جذبات قابو میں نہ آئیں اس کیلئے اللہ کے نبیﷺ نے پھر نسخہ آزمایا۔ نسخہ یہ تھا کہ آپؐ نے اس نوجوان کے سینے پر ہاتھ رکا اور فرمایا اے اللہ! اس نوجوان کے دل کو پاک فرما دیجئے‘ وہ صحابیؓ فرماتے ہیں کہ میرے سینے پر ہاتھ رکھنے اور اس دعا کی برکت سے میرے دل پر ایسا اثر ہوا کہ اس کے بعد مجھے جتنی نفرت زنا سے تھی اتنی نفرت مجھے دنیا میں کسی گناہ سے نہیں تھی۔ یہ فیض تھا جو نبی علیہ السلام سے اس صحابی کے سینے میں منتقل ہوا۔ اللہ والے جو سینے سے لگاتے ہیں یہ بھی ایک سینے سے دوسرے سینے میں منتقل ہونے کا ذریعہ ہے۔



















































