ایک شیخ نے اپنے کسی نوکر سے کہا کہ فلاں آدمی کے پاس سے گزرو اور کوئی گندگی لے کر اس کے قریب سے گزرنا اور دیکھنا کہ اس کی حالت کیا ہوتی ہے جب وہ آدمی قریب سے گزرا تو وہ صوفی صاحب ناک منہ چڑھا کر کہنے لگے تمہیں نظر نہیںآتا کہ میں بھی بیٹھا ہوا ہوں‘ شیخ کو پتہ چلا تو فرمایا کہ ابھی کام باقی ہے کچھ عرصہ کے بعد پھر وہ گندگی لے کر قریب سے گزرا اب یہ خاموشی کے ساتھ بیٹھے رہے
اس نے آ کر کیفیت بتائی‘ حضرت نے فرمایا پہلے سے کچھ بہتری ہو گئی ہے مگر اب یوں کرنا ہے کہ جب اس کے قریب سے گزرو تو کچھ گندگی اس کے اوپر گرا دینا اور پھر دیکھنا کہ یہ کیا کہتا ہے۔ انہوں نے قریب سے گزرتے ہوئے گندگی اوپر گرا دی۔ صوفی صاحب نے ان کو غصے کی نظر سے دیکھا اور کہا تجھے نظر نہیں آیا کہ کوئی بیٹھا ہوا بھی ہے یا نہیں اس نے جا کر بتا دیا‘ حضرت نے فرمایا: ہاں ابھی نفس کا اژدھا مرا نہیں‘ چنانچہ کچھ عرصہ اور محنت کروائی پھر فرمایا آئندہ ساری گندگی اس کے اوپر ڈال کر دیکھنا چنانچہ اس نے قریب سے گزرتے ہوئے اس طرح گندگی گرائی کہ صوفی صاحب پر گری وہ صوفی صاحب کھڑے ہو کر اس کے کپڑوں سے گند گی صاف کرنے لگے اور کہنے لگے کہ آپ کہ کہیں چوٹ تو نہیں لگی‘ اس نے جا کر یہی بات بتا دی‘ شیخ نے کہا الحمدللہ اب نفس کا اژدھا مر گیا ہے ’’میں‘‘ مٹ چکی ہے اب اللہ تعالیٰ نے ان کے اندر عاجزی اور انکساری پیدا فرما دی ہے۔ لہذا ان کو اجازت و خلافت عطا فرما دی ایسی محنت جس کو کروانے کے بعد شیخ کسی سے امتحان لے اور امتحان میں وہ پورے اترے اس کو سنت اصلاح کہتے ہیں۔



















































