ایک سالک صاحب! اپنے شیخ کے پاس ذکر سیکھنے کیلئے آئے‘ اللہ کی شان کہ وہ عورت جو صفائی کرنے کیلئے آیا کرتی تھی وہ اچھی شکل کی تھی اور وہ سالک صاحب اسے دیکھا کرتے تھے اس عورت نے شیخ کو بتا دیا کہ جی یہ جو آپ کا نوارد مہمان ہے اس کی نگاہیں بدلی بدلی ہیں جب اس نے شیخ کو یہ بات کی تو اسے قدرتاً اسہال کی شکایت ہو گئی اور اسے اس دن کئی مرتبہ بیت الخلاء میں جانا پڑا۔
اگلے دن اس کی بڑی بری حالت تھی لیکن چونکہ اس کو کام پر جانا تھا‘ اس لئے وہ پھر آ گئی جب اس کی نظر اس پر پڑی تو دیکھا کہ اس کی ہڈیاں نکلی ہوئی تھیں اور پہلے والی چمک نہیں تھی‘ لہٰذا اس نے دیکھتے ہی اپنا چہرہ دوسری طرف کر لیا اور اس سے کہا کہ جلدی سے یہاں سے چلی جا اس نے جا کر شیخ سے یہ بھی بتا دیا۔ انہوں نے کہا کہ بہت اچھا اب تو چلی جا‘ چنانچہ وہ چلی گئی اب انہوں نے اس کو بلوایا‘ جب وہ آیا تو شیخ اس سے فرمانے لگے کہ میں نے تجھے اس لئے بلوایا ہے کہ آپ اپنے محبوب کو جا کر دیکھ لیجئے اس نے کہا‘ حضرت کہاں ہے؟ فرمایا بیت الخلاء میں ‘ جب وہ وہاں گیا تو وہاں نجاست ہی نجاست تھی‘ وہ کہنے لگا حضرت! بدبو آ رہی ہے فرمانے لگے کل وہی خاتون تھی تو تم اسے للچائی نظروں سے دیکھ رہے تھے اور آج بھی وہی خاتون ہے اور وہ لالچ نہیں ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ جس چیز کا تجھے لالچ تھا وہ اس سے جدا ہو گئی ہے اور وہ یہی نجاست ہے لہٰذا معلوم ہوا کہ تجھے اسی چیز کے ساتھ عشق تھا اس لئے ہم نے جانا کہ آپ کو اپنے محبوب ساتھ ملوا دیا جائے۔



















































