ذکراللہ کی اتنی اہمیت ہے کہ امام اعظم رحمتہ اللہ علیہ نے جب امام ابویوسف رحمتہ اللہ علیہ کو جسٹس بنا کر بھیجا تو انہیں نصیحتیں فرمائیں‘ علماء جانتے ہیں کہ ’’وصایاامام اعظم‘‘ کے نام سے کتاب بھی ملتی ہے دیکھیں ایک آدمی کو چیف جسٹس کا عہدہ مل رہا ہے اور اس کا استاد اس کو نصیحتیں کر رہا ہے ہدایت دیتے ہوئے چاہئے تو یہ تھا کہ وہ فرماتے کے اصول فقہ کو سامنے رکھنا‘ قرآن و حدیث اور اجماع و قیاس پر نظر رہے
لیکن امام اعظمؒ نے امام ابویوسفؒ کو فرمایا اے یعقوب تم لوگوں میں بیٹھ کر کثرت کے ساتھ ذکر کرنا تاکہ لوگ تم سے سیکھ کر ذکر کریں۔
دو آدمیوں کی قلبی کیفیت
شیخ شہاب الدین سہروردیؒ نے لکھا ہے کہ حج پر گیا میں نے وہاں دیکھا کہ ایک آدمی غلاف کعبہ پکڑ کر دعائیں مانگ رہا تھا‘ جب میں اس کے دل کی طرف متوجہ ہوا تو اس کا دل اللہ سے غافل تھا‘ وہ اس لئے کہ اس کے ساتھ کچھ اور لوگ بھی حج پر آئے ہوئے تھے‘ دعا مانگتے وقت اس کے دل میں یہ تمنا پیدا ہو رہی تھی کہ کاش میرے دوست مجھے دیکھتے کہ میں کیسے رو رو کر دعائیں مانگ رہا ہوں وہ آدمی یہ عمل اللہ کیلئے نہیں کر رہا تھا بلکہ دکھاوے کے طور پر کر رہا تھا۔ پھر فرماتے ہیں کہ اس کے بعد منیٰ میں آیا اور میں نے دیکھا کہ ایک نوجوان اپنا مال فروخت کر رہا تھا۔ فرماتے ہیں کہ جب میں اس کے دل کی طرف متوجہ ہوا تو میں اس کے دل کو ایک لمحہ کیلئے بھی اللہ تعالیٰ سے غافل نہیں پایا‘ یہی مقصود زندگی ہے کہ ہم اپنے کاروبار میں ہوں یا جہاں کہیں بھی ہوں ہمارا دل ہر وقت اللہ رب العزت کی یاد میں لگا ہو۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ترجمہ ’’وہ مرد نہیں غافل ہوئے سودا کرنے میں اور نہ بیچنے میں اللہ کی یاد سے اور نماز قائم کھنے سے اور زکوٰۃ دینے سے ڈرتے ہیں اس دن سے جس میں الٹ جائیں گے دل اور آنکھیں۔



















































