حضرت خواجہ غلام حسن سواگ نامی ایک معروف و مشہور بزرگ گزرے ہیں ان کا ایک بڑا مشہور واقعہ ہے اس واقعہ کے سینکڑوں چشم دید گواہ تھے ایک جگہ ہندو اور مسلمان اکٹھے رہتے تھے ایک امیر ہندو حضرت کی وجہ سے مسلمان ہو گیا۔ ہندوؤں نے خواجہ صاحب رحمتہ اللہ کیخلاف مقدمہ درج کرا دیا کہ خواجہ صاحب ہندوؤں پر جادو کر کے مسلمان بنادیتے ہیں۔ جج بھی ہندو تھا۔
حضرت کو جو پولیس گرفتار کر کے لائی وہ سب ہندو تھے۔ حضرت جب جج کے سامنے پیش ہوئے پولیس اور تھانیدار نے حضرت کے گرد گھیرا ڈالا ہوا تھا‘ جج نے حضرت سے پوچھا کہ تو نے اس ہندو کو کیوں مسلمان کیا ہے؟ حضرت نے فرمایا کہ نہیں میں نے تو مسلمان نہیں کیا یہ خود مسلمان ہوا ہے۔ جج نے اصرار کیا نہیں تو نے مسلمان کیا ہے‘ آخر حضرت نے ہندو تھانیدا کی طرف انگلی کا اشارہ کر کے فرمایا کیا اس کو بھی میں نے مسلمان کیا ہے۔ ساتھ ہی لفظ’’اللہ‘‘ کے ساتھ قلبی توجہ دی تو وہ فوراً کلمہ پڑھنے گا‘ اب دوسرے کی طرف اشارہ کیا توہ بھی کلمہ پڑھنے لگا‘ پھر اسی طرح آپ جس ہندو کی طرف بھی اشارہ کرتے وہ مسلمان ہو جاتا یوں وہاں کھڑے کھڑے پانچ ہندوؤں نے کلمہ پڑھ لیا یہ صورتحال دیکھ کر جج دوسرے کمرے میں چلا گیا کہ کہیں میری طرف بھی انگلی کا اشارہ نہ ہو جائے اور وہیں سے حکم سنایا کہ خواجہ صاحب کو باعزت بری کیا جاتا ہے یہ اب یہاں سے چلے جائیں سبحان اللہ‘ اللہ کے نام میں بڑی برکت ہے۔
حضرت جرجانی رحمتہ اللہ علیہ کا وقت کی حفاظت
ایک دفعہ خواجہ سری سقطی نے حضرت جرجانی کو ستو پھانکتے ہوئے دیکھا۔ انہوں نے پوچھا اکیلے ستو پھانک رہے ہیں روٹی ہی پکا لیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں نے روٹی چبانے اور ستو پھانکنے کا حساب لگایا ہے۔ روٹی چبانے میں اتنا وقت زیادہ خرچ ہوتا ہے کہ آدمی ستر مرتبہ سبحان اللہ کہہ سکتا ہے اس لئے میں نے گزشتہ چالیس برس سے روٹی کھانا چھوڑ دی ہے اور فقط ستو پھانک کر گزارہ کرتا ہوں گویا سلف و صالحین اپنی ضروریات کے وقت کو بھی کم کر کے عبادات میں لگایا کرتے تھے۔



















































