دربند ایک شہر کا نام ہے۔ ایک تاتاری شہزادہ اپنے گروپ کو لے کر پہنچا اور مسلمانوں نے وہ شہر خالی کر دیا‘ وہ مسکرا کر کہنے لگا کہ ہماری بہادری دیکھ کر مسلمان ہمارا نام سنتے ہیں اور شہر خالی کر دیتے ہیں او رخالی کر کے بھاگ جاتے ہیں۔ پولیس نے اسے اطلاع دی کہ جناب! شہر میں ابھی تک دو بندے موجود ہیں ایک سفید ریش بوڑھے آدمی ہیں اور ایک ان کا خادم لگتا ہے اور وہ دونوں مسجد میں بیٹھے ہیں
اس نے چونک کر کہا وہ ابھی نہیں نکلے؟ بتایا گیا کہ ابھی نہیں نکلے کہنے لگا کہ انہیں زنجیروں میں جکڑ کر میرے سامنے پیش کرو‘ پولیس گئی اور انہیں ہتھکڑیاں ڈال کر لے آئی اور انہیں شہزادے کے سامنے لاکر کھڑا کر دیا‘ ان کا نام شیخ احمد دربندیؒ تھا اور یہ سلسلہ نقشبندیہ کے بزرگ تھے۔ شہزدے نے کہا تمہیں پتہ نہیں تھا کہ میں اس شہرمیں آ رہا ہوں فرمایا پتہ تھا کہنے لگا پھر شہر سے نکلے کیوں نہیں؟ انہوں نے کہا کہ ہم کیوں نکلتے‘ ہم تو اللہ کے گھر میں بیٹھے۔ وہ طیش میں آ کر کہنے لگا اب تمہیں میری زا سے کون بچائے گا؟ جب اس نے یہ کہا تو حضرت دربندی رحمتہ اللہ علیہ نے جوش میں آ کر کہا اللہ۔ جیسے ہی انہوں نے اللہ کا لفظ کہا ان کے ہاتھ سے ہتھکڑیاں ٹوٹ کر نیچے گر پڑیں۔ جب شہزادے نے یہ منظر دیکھا تو وہ سہم گیا اور کہنے لگا کہ یہ کوئی عام آدمی نہیں ہے چنانچہ وہ کہنے لگا اچھا میں آپ کو اس شہر میں رہنے کی اجازت دیتا ہوں۔
ذکر سے شیطان ہڈیوں کا ڈھانچہ بن گیا
شیخ الحدیث حضرت مولانا ذکریا رحمتہ اللہ علیہ نے فضائل ذکر میں لکھا ہے کہ ایک آدمی نے شیطان کو دیکھا وہ ہڈیوں کا ڈھانچہ بنا ہوا تھا اور اس کا برا حال تھا‘ اس نے پوچھا یہ کیا ہوا؟ کہنے لگا! کیا بتاؤں کہ کچھ ایسے لوگ ہیں جنہوں نے میرے جگر کے کباب بنا دیئے ہیں اور انہوں نے مجھے ہڈیوں کا ڈھانچہ بنا دیا ہے۔ اس نے کہا وہ کون لوگ ہیں؟ کہنے لگا کہ وہ جو شونیزیہ کی مسجدمیں بیٹھے ہوئے ہیں۔ وہ آدمی فوراً شونیزیہ کی مسجد میں گیا جب وہ مسجد میں داخل ہوا تو اس نے دیکھا کہ وہاں کچھ متقی پرہیزگار اورباخدا انسان بیٹھے اللہ کو یاد کر رہے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں میں بھی یہ بات القا کر دی چنانچہ جیسے ہی وہ مسجد میں داخل ہوا تو انہوں نے مسکرا کر میری طرف دیکھا اور فرمایا کہ اس مردود کی باتوں پر اعتماد نہ کرنا۔



















































