ہفتہ‬‮ ، 23 مئی‬‮‬‮ 2026 

حضرت موسیٰ علیہ السلام پر معرف و تجلی کا نور

datetime 6  فروری‬‮  2017 |

جب حضرت موسیٰ علیہ السلام کوہ طو رپر گئے تو وہاں پر چالیس دن ٹھہرے اور انہیں اللہ رب العزت کا دیدار نصیب ہوا۔ اس وقت اللہ رب العزت نے ستر ہزار پردوں میں سے تجلی ڈالی‘ اس کے باوجود کوہ طور جل کر سرمہ کی مانند بن گیا اور حضرت موسی علیہ السلام بیہوش ہو کر گر پڑے ان کو نہ آگ لگی اور نہ ہی موت آئی‘ کیونکہ استعداد میں فرق تھا‘ آپ کے قلب کے اندر اللہ رب العزت کی محبت کی اور تجلیات کو قبول کرنے کی استعداد تھی اور اس پہاڑ کے اندر استعداد نہیں تھی

اس لئے وہ جل گیا اور حضرت موسیٰ علیہ السلام پر فقط غشی کی سی کیفیت ہوئی۔ تفسیر در منثور میں لکھا ہے۔ ’’جب موسیٰ علیہ السلام نے اپنے رب سے کلام کیا تو چالیس دن تک ٹھہرے رہے (اس کے بعد) کوئی بھی ان کے (چہرے) کو نہیں دیکھ سکتا تھا اگر کوئی دیکھتا تو دیکھتے ہی اس آدمی کو موت آ جاتی ہے‘‘۔
چنانچہ حضرت موسیٰ علیہ السلام اپنے چہرے کو چھپائے رکھتے تھے حتیٰ کہ ان کی بیوی بھی ان کا چہرہ دیکھنے کو ترستی تھی اور وہ نہیں دیکھنے دیتے تھے اس لئے کہ ان کی آنکھوں میں وہ حسن اور نور آگیا تھا کہ اس تجلی کو دیکھنے کے بعد دیکھنے والا ان کے حسن کی تاب نہ لا کر اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتا تھا‘ سبحان اللہٖ! جس نے پروردگار کے حسن و جمال کو ستر ہزار پردوں میں دیکھا اس کے چہرے کا حسن اتنا بڑھ گیا کہ مخلوق اس کا دیدار کرنے کی استعداد نہیں رکھتی تھی۔عظمت الٰہی پر ملی معرفت باری
ذوالنون مصری‘ مصر کے بڑے بزرگ گزرے ہیں ان کو جو ولایت ملی اس کا واقعہ بڑا عجیب ہے۔ دوستوں کے ساتھ جا رہے تھے ایک جگہ بیٹھے‘ کسی دوست نے وہاں موجود ایک پتھر ہٹایا جیسے ہی ہٹایا تو محسوس کیا کہ اس کے نیچے کوئی چیز ہے۔ جب سب جگہ کھودی تو خزانہ ملا سونا‘ چاندی‘ جواہر‘ بڑی قیمتیں چیزیں تھیں اس کے اندر خوبصورت اللہ کا نام بھی لکھا ہوا تھا‘ اب انہوں نے کہا کہ جی تقسیم کیسے کریں تو انہوں نے کہا کہ میاں سونا چاندی تم سب تقسیم کر لو اور یہ جو اللہ تعالیٰ کا خوبصورت نام ہے یہ مجھے دے دو‘ چنانچہ انہوں نے اللہ کے خوبصورت نام کو خود پسند کر لیا ان کو خواب میں کسی بزرگ کی زیارت ہوئی اور اس بزرگ نے کہا چونکہ تم نے مال اور چاندی کو قربان کر دیا اور اللہ کے نام کو پسند کر لیا لہٰذا اللہ نے تمہیں اپنی ذات کیلئے پسند کر لیا‘ اٹھے تو ان کے دل میں اللہ کی محبت اتنی بھر چکی تھی کہ ان کو اللہ کی معرفت نصیب ہو گئی۔ اللہ کا نام پسند کرنے پر اللہ کی معرفت مل گئی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پانچ سو ڈالر


وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…