حضرت مولانا محمد شفیع رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ کے اجل خلیفہ عزیز الحسن مجذوبؒ اور ہم کچھ دوسرے خلفاء اکٹھے بیٹھے تھے اس دوران میں خواجہ عزیز الحسن مجذوبؒ نے انہیں مذاق کی کچھ باتیں سنانا شروع کر دیں‘ یعنی خوش طبعی کی ایسی باتیں سنانا شروع کر دیں کہ لوگوں نے ہنسنا شروع کر دیا‘ سچی باتیں بھی خوش طبعی والی ہو سکتی ہیں۔
(بعض اوقات نبی علیہ السلام بھی صحابہ کرام سے خوش طبعی کی باتیں فرما لیتے تھے اور صحابہ کرامؓ بھی ایک دوسرے سے خوش طبعی فرما لیتے تھے‘ ضروری نہیں ہوتا کہ جھوٹا لطیفہ سنا کر ہی خوش کرنا ہوتا ہے اللہ والوں کے پاس ایسے لطائف علیمہ ہوتے ہیں کہ بات بھی سچی کرتے ہیں اور دوسرے ہنس بھی رہے ہوتے ہیں)۔ حضرت مفتی صاحب رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ انہوں نے ہمیں کچھ دیر ایسی باتیں سنائیں کہ ہم ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہو گئے۔ ہم نے ان سے کہا کہ اب تو پیٹ میں بل پڑنے لگے‘ اب آپ یہ باتیں نہ سنائیں‘ اس بات کے جواب میں انہوں نے فرمایا کہ تم میں سے کون ہے جو اس تمام ہنسی کے دوران ایک لمحہ بھی اللہ سے غافل نہیں ہوا‘ فرماتے ہیں کہ ایک ایسا عجیب سا سوال تھا کہ ہم حیران رہ گئے۔ پھر فرمانے لگے کہ تمہیں اتنی دیر ہنساتا رہا مگر اس دوران میں ایک لمحہ کیلئے بھی اللہ سے غافل نہیں ہوا۔ جس انسان کو معیت الٰہی کی کیفیت حاصل ہو چکی ہوتی ہے وہ ایسی باتیں سن کر ہنس بھی رہا ہوتا ہے مگر اس کا باطن اللہ تعالیٰ کے ساتھ جڑا ہوا ہوتا ہے۔



















































