حضرت پیرذوالفقار نقشبندی نے واقعہ بیان کرتے ہوئے بتایا کہ آنکھ کا نور اور چیز ہے‘ دل کا نور اور چیز ہے حکیم انصاری دہلی کے بڑے مشہور حکیم تھے‘ اللہ نے کیا فہم و فراست عطا فرمائی تھی‘ اندھے تھے لیکن حکمت کا کام کیا کرتے تھے‘ ہاتھ دیکھتے تھے اور مریض کے مرض کو پہچان لیا کرتے تھے‘ بڑے مشہور حکیم تھے اگر دوسرے حکیموں سے مرض قابو میں نہ آتا تو مریض ان کے پاس جایا کرتے تھے‘
ہمارے سلسلے کے ایک بزرگ خواجہ محمد عبدالمالک صدیقی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں مجھے شوق ہوا کہ میں بھی ذرا ان حکیم صاحب کو دیکھوں چنانچہ میں انکی دکان پر گیا ان سے کوئی بات نہیں کی تاکہ میرے آنے کا ان کو پتہ نہ چلے اور وہاں بیٹھ کر میں نے ان کے دل پر توجہ ڈالنی شروع کر دی‘ کچھ دیر گزری تو میں نے کہا کہ اچھا دل کی بجائے روح پر توجہ ڈالتا ہوں‘ جب میں نے اس پر توجہ ڈالنا چاہی تو وہ فوراً بول اٹھے‘ ناں ناں حضرت آپ میرے دل پر ہی توجہ کرتے رہیں اگر یہی بن گیا تو سب کچھ بن گیا۔ فرماتے ہیں میں حیران ہو گیا کہ اس شخص کو نابینا کون کہے‘ جسے بتایا بھی نہیں گیا مگر اس کا دل ایسا صاف ہے کہ وہ آنے والے انوارات کو محسوس کر رہا ہے۔ اللہ اکبر
معیت الٰہی
حضرت پیر ذوالفقار علی نقبشندی نے بتایا کہ ایک بزرگ نے کسی کو خلافت دینے سے پہلے کہا کہ جاؤ یہ مرضی کسی ایسی جگہ ذبح کر کے لاؤ جہاں کوئی نہ دیکھ رہا ہو کئی اور مریدوں سے بھی کہا‘ سب لوگ مرغیاں ذبح کرنے چلے گئے‘ کسی نے درخت کی اوٹ میں‘ کسی نے دیوار کی اوٹ میں غرض سب ذبح کر کے لے آئے لیکن جن کو خلافت دینی تھی وہ جب واپس آئے تو رو رہے تھے‘حضرت نے پوچھا‘ روتے کیوں ہو؟ آپ کے ہاتھ میں تو مرغی ویسی ہی ہے ؟ کہنے لگے‘ حضرت! آپ نے حکم دیا تھا مگر میں اس پر عمل نہیں کر سکا‘ پوچھا کیوں عمل نہیں کیا؟ کہنے لگے حضرت! آپ نے حکم دیا تھا کہ اس کو ایسی جگہ ذبح کرو جہاں کوئی نہ دیکھتا ہو لیکن میں جہاں بھی گیا میرا رب مجھے دیکھتا تھا اس لئے میں اس کو کیسے ذبح کر سکتا تھا۔ فرمایا الحمد للہ‘ اسی معیت کی کیفیت کاتو امتحان لینا تھا‘ اس کے بعد ان کو نسبت عطا فرما دی ۔



















































