امام حمد بن حنبل کے پاس ایک بزرگ آتے تھے ان کا نام ابوہاشم تھا‘ امام احمد بن حنبل ان کو ابوہاشم صوفی کہا کرتے تھے‘ یہ صوفی کا لفظ امام احمد بن حنبل رحمتہ اللہ علیہ کی فقیہ کی زبان سے نکلا ہے جب وہ آتے تو امام احمد بن حنبل رحمتہ اللہ علیہ کئی دفعہ اپنا درس بھی موقوف کر کے کھڑے ہو جاتے اور ان کو پاس بٹھاتے
اب طلبہ کے دل میں اشکال ہوتا کہ امام صاحب اتنے بڑے عالم‘ جبال العلم اور یہ تو ایک ذاکر شاغل بزرگ ہیں ان کیلئے کھڑے ہوتے ہیں اور درس بھی کئی دفعہ چھوڑ دیتے ہیں۔ ان کی باتیں سنتے ہیں تو ایک شاگرد نے پوچھ لیا کہ حضرت ہمیں سمجھ میں نہیں آتا کہ آپ ان کا اتنا اکرام کیوں کرتے ہیں؟ امام احمد بن حنبل رحمتہ اللہ علیہ نے عجیب عالمانہ جواب دیا فرمایا: دیکھو! میں عالم بکتاب اللہ ہوں اور ابوہاشم عالم باللہ ہیں اور عالم باللہ کو عالم بکتاب اللہ پر فضیلت حاصل ہے۔ امام صاحب ان کی صحبت اختیار فرمایا کرتے تھے اور فرماتے تھے کہ اگر ابوہاشم کوفی نہ ہوتے ریاء کی باریک باتوں سے میں کبھی واقف نہیں ہو سکتا۔
شیخ سے جس قدر مناسبت اسی قدر فائدہ
سیدنا عمر بن خطابؓ نے ایک دفعہ خواب میں دیکھا کہ حضور اکرمﷺ پر بارش ہو رہی ہے‘ آپﷺ کے جہاں قدم مبارک ہیں وہاں ابوبکر صدیق کا سر ہے بارش کا جو پانی نبی اکرمﷺ پر آ رہا ہے وہ سارے کا سارا ابوبکرصدیقؓ پر آ رہا ہے‘ حضرت عمر بن خطابؓ نے بھی اپنے آپ کو قریب کھڑے دیکھا‘عمر ابن خطاب کہتے ہیں کہ ابوبکرصدیقؓ سے چھینٹیں اڑ کر میرے اوپر پڑ رہی ہیں اور میں بھی بھیگا چلا جا رہا ہوں۔ صبح اٹھے اور نبی اکرمﷺ کی خدمت عالیہ میں حاضر ہو کر عرض کیا اے اللہ کے محبوبؐ میں نے رات خواب میں یہ چیز دیکھی ہے۔ آپؐ نے فرمایا عمر! یہ علوم نبوت تھے جو بارش کی طرح میرے اوپر برس رہے تھے۔ صدیق کو چونکہ میرے ساتھ کمال مناسبت نصیب ہے اس لئے وہ مجھ سے سب سے زیادہ کمالات پا رہا ہے اور اس کے ساتھ مناسبت کی وجہ سے تم بھی ان علوم کو حاصل کر رہے ہو۔ کمالات نبوت سب سے زیادہ سیدنا صدیق اکبرؓ نے حاصل کئے اور علوم ولایت کو حضرت علیؓ نے سب سے زیادہ حاصل کیا یہ کمالات نبوت نسبت اتحاد کی تیسری دلیل ہے۔



















































