تین آدمی ایک ہی راستہ پر جا رہے تھے ان کا آپس میں تعارف ہوا‘ پھر ایک دوسرے سے پوچھنے لگے کہ کہاں جا رہے ہیں ان میں سے ایک نے کہا کہ میں حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی کے پاس جا رہا ہوں سنا ہے کہ وہ بڑا ولی ہے اس لئے میں اسے آزمانے جا رہا ہوں کہ وہ ولی ہے بھی یا نہیں؟
دوسرے سے پوچھا کہ بھئی! آپ کس لئے جا رہے ہیں؟ وہ کہنے لگا کہ میں بہت زیادہ مصیبتوں میں پھنسا ہوا ہوں اس لئے شیخ عبدالقادر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ سے دعا کروانے جا رہا ہوں تاکہ اللہ تعالیٰ ان کی دعا سے میری مصیبتیں دور فرما دیں‘ تیسرے نے پوچھنے پر جواب دیا کہ میں نے سنا ہے کہ شیخ عبدالقادر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ بڑے کامل ولی ہیں اس لئے میں ان کو ولی سمجھ کر ان کے جوتوں میں کچھ دن گزارنے جا رہا ہوں۔ وہ تینوں آدمی شیخ عبدالقادرجیلانی رحمتہ اللہ علیہ کی خدمت میں پہنچے اور سلام کر کے بیٹھ گئے ان میں سے جو آدمی کہتا تھا کہ میں تو آزمانے جا رہا ہوں حضرت نے اس سے حال احوال پوچھے اور اسے واپس بھیج دیا۔ کہتے ہیں کہ وہ بندہ اپنی زندگی میں مرتد ہوا اور بالآخر کفر پر اس کی موت آئی کیونکہ اس کے دل میں اولیاء اللہ کا استخاف تھا اور ان کے بارے میں ادھر ادھر کی باتیں کرتا پھرتا تھا ان میں سے جس نے کہا تھا کہ مصیبتوں میں گھرا ہوا ہوں اور دعا کروانے جا رہا ہوں حضرت نے اس کیلئے دعا فرما دی اور اس کو واپس بھیج دیا اللہ تعالیٰ نے ان کی مصیبتیں دور کر دیں اور تیسرا بندہ جس نے کہا کہ تھا کہ میں ان کے قدموں میں کچھ وقت گزارنے جا رہا ہوں وہ ان کے پاس رہا۔



















































