خواجہ عبدالقدوس رحمتہ اللہ علیہ کے کئی خلفاء تھے ان کا ایک پوتا جوان ہوا تو اس وقت دادی اماں حیات تھیں‘ انہوں نے کہا کہ‘ بیٹا ایک نعمت تیرے دادا کے پاس تھی اگر تو چاہتا ہے کہ وہ نعمت تجھے ملے تو ان کے صحبت یافتہ خلفاء کی خدمت میں جا طلب صادق لے کر جا‘ تجھے وہ نعمت ملے گی‘ وہ نوجوان آمادہ ہو گیا‘ چنانچہ دادی اماں نے اسے ایک خلیفہ کی خدمت میں روانہ کر دیا‘
جب خلیفہ صاحب کوپتہ چلا کہ میرے شیخ کے پوتے آ رہے ہیں تو وہ جماعت لے کر شہر سے باہر استقبال کیلئے آئے‘ بڑی دھوم دھام کے ساتھ استقبال کیا تین دن مہمان نوازی فرمائی اس کے بعد پوچھا کہ جی! کیسے تشریف لائے‘ عرض کیا آپ کے پاس ایک نعمت ہے اس کے حصول کیلئے حاضر ہوا ہوں‘ فرمایا پھر تو تقاضے کچھ اور ہیں پیر بن کر تو وہ نعمت نہیں ملے گی۔ وہ تو مرید بن کر ملے گی‘ چنانچہ وہ گدیاں بھی گئیں وہ بستر بھی گئے‘ فرمایا چٹائی پر رہنا پڑے گا اور یہ کام کرنے پڑیں گے‘ عرض کیا بہت اچھا حضرت نے ان کے ذمہ کئی قسم کے کام لگا دیئے‘ ان کو مجاہدے اور ریاضت کی لائن پر لگا دیا‘ وہ نوجوان لگا رہا ایک ایسا وقت آیا کہ جب شیخ نے دیکھا کہ کچھ بہتر ہو رہا ہے تو سوچا کہ چلو آزماتے ہیں کہ طلب کتنی پکی ہے کچھ لوگ شکار کیلئے جانے لگے تو شیخ نے خود بھی پروگرام بنا لیا کہ ہم بھی شکار کیلئے جائیں گے اس دور میں شکار کو کتوں کے ذریعے سے پکڑا جاتا تھا‘ سدھائے ہوئے کتوں کا شکار شریعت نے حلال گردانا ہے۔حضرت نے پلے ہوئے بڑے بڑے کتے ساتھ لے لئے اور نوجوان سے فرمایا کہ آپ کو ان کتوں کو پکڑنا اور سنبھالنا ہے اس نے کہا کہ بہت اچھا یہ بیچارہ مجاہدے کی وجہ سے سوکھ کر ہڈیوں کا ڈھانچہ بن چکا تھا‘جب کہ آزمائش کیلئے کتے پکڑنے کی ڈیوٹی لگا دی گئی۔
بسا اوقات شیخ آزماتے ہیں تکلیف دے کر بھی آزماتے ہیں‘ شیخ کو پتہ چل جاتا ہے کہ حقیقت کیا ہے؟ لیکن مرید کو پتہ نہیں چلتا‘ چنانچہ نوجوان نے رسی کو اپنی کمر سے باندھ لیا اور اپنے ہاتھوں سے مضبوطی سے اسے پکڑ بھی لیا‘ جب شکار سامنے آیا اور کتوں نے شکار کو دیکھا تو وہ بھاگے چونکہ پلے ہوئے کتے تھے اور یہ کیلے اور کمزور تھے اس لئے رسی کو اپنی ہمت سے پکڑا تو سہی مگر ساتھ کھینچتے چلے گئے‘ کتے تیز بھاگے اور یہ کھینچتے کھینچتے گر گئے‘ اب ساتھ گھسٹتے چلے جا رہے ہیں جسم زخموں سے چور چور ہو رہا ہے مگر رسی کہ نہ چھوڑا کیونکہ شیخ نے وہ رسی پکڑائی تھی‘ اب جان تو جا سکتی ہے مگر ہاتھوں سے نہیں چھوٹ سکتی یہ ہے سچی طلب‘ جب ان کو جسم پر زخم لگے تو شیخ بھی ساتھ تھے‘ شیخ کو اس وقت کشف میں حضرت خواجہ عبدالقدوس رحمتہ اللہ علیہ کی زیارت ہوئی اور خواجہ صاحب نے فرمایا کہ خلیفہ صاحب ہم نے تو آپ سے اتنی محنت نہیں کروائی تھی چنانچہ اسی وقت شیخ نے اس نوجوان کو سینے سے لگایا اور وہ نعمت ان کے سینے میں القاء فرما دی۔



















































