حضرت موسیٰ علیہ السلام کے مقابلے میں ستر ہزار جادوگر تھے‘ اللہ تعالیٰ نے ان کو ایمان لانے کی توفیق عطا کر دی‘ چند لمحے پہلے کافر تھے اور چند لمحے بعد سجدے میں گر گئے اور مومن بن گئے کیا وجہ تھی؟ اس کی وجہ یہ تھی کہ ان کے اندر ادب تھا‘
ایک تو وقت کے نبی علیہ السلام کے ساتھ مشابہت تھی‘ اور دوسری وجہ کتابوں میں لکھا ہے کہ مقابلے سے پہلے انہوں نے آپس میں مشورہ کیا تھا کہ کیا کریں؟ ان میں ایک اندھا جادوگر تھا اس نے کہا کہ بھئی دیکھو دو صورتیں ہیں یا تو ہمارا مقابل واقعی سچا ہے اور اللہ کا نبی ہے یا پھر ہماری طرح جادوگر ہے لہٰذا میں تمہیں مشورہ دیتا ہوں کہ تم اس کا ادب کرو اگر ادب کریں گے اور وہ جادگر ہوا اور ہم غالب آ گئے تو ہمیں نقصان کوئی نہیں اور اگر وہ ہم پر غالب آ گیا تو ہم نے چونکہ اس کا ادب کیا وہ گا اس لئے اس کا ادب ہمارے لئے فائدہ اور نفع کا سبب بن جائے گا۔ انہوں نے پوچھا کہ ہم اس کا کیا ادب کریں؟ مشورہ دیا اس اندھے نے اس کے باطن میں روشنی دے دی ہو گی اللہ تعالیٰ نے اس۔ اس نے کہا کہ ادب یہ ہے کہ تم مقابلہ کرنے سے پہلے پوچھ لینا کہ جناب آپ پہلے ڈالنا چاہتے ہیں اپنی کسی چیز کو یا ہم ڈال کر دکھائیں یہ جو ہم پوچھیں گے ہمارا یہ پوچھنا اذن اور ادب بن جائے گا اور اس ادب کی وجہ سے ہمارے لئے نفع ملے گا اور واقعی جب انہوں نے ’’القوم ما انتم ملقون‘‘ کہا تو واقعی اللہ تعالیٰ نے مہربانی فرما دی کہ اللہ تعالیٰ نے اس ادب کی وجہ سے ایمان کی دولت نصیب فرما دی۔



















































