اتوار‬‮ ، 07 جون‬‮ 2026 

قاتل حسینہ کی لاشوں کیساتھ شرمناک حرکات ، دل دہلا دینے والی روداد

datetime 3  فروری‬‮  2017 |

اسلام آباد(مانیـٹرنگ ڈیسک )میں مردوں کی لاشوں کا سر قلم کر کے خون پیتی اور جسم سے جنسی تعلقات استوار کر لیتی ہوں۔ امریکی جیل میں قید میکسیکو کی جوآنا کی دل دہلا دینے والی روداد منظر عام پر آگئی۔ برطانوی اخبار کی رپورٹ کے مطابق 28سالہ خوبصورت لڑکی کا نام جوآنا (Juana)ہے جو میکسیکو میں ایک خطرناک منشیات سمگلرگروپ کے ساتھ کام کرتی تھی۔

جوآنا نے انکشاف کیا ہے کہ ”میں اپنے گروپ کے مخالف مردوں کے سر قلم کے ان کا خون پیتی تھی اور ان کی لاشوں کے ساتھ جنسی تعلق استوار کرتی تھی۔“رپورٹ کے مطابق جوآنا کا کہنا تھا کہ وہ بچپن ہی سے باغیانہ مزاج کی مالک تھی، انتہائی کم عمری میں ہی میں شراب و دیگر منشیات کی عادی ہو گئی۔ 15سال کی عمر میں ایک 35سالہ شخص کے بچے کی ماں بن گئی مگر میرے پاس روزگار نہیں تھا۔ اپنا اور بچے کا پیٹ پالنے کے لیے جسم فروشی کا دھندہ کرنے لگی۔ پھر میں ’زیٹازنامی منشیات سمگلر گروپ میں شامل ہو گئی۔ اس نے بتایا کہ اس گروپ نے اسے پولیس کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے کا کام سونپا غلطی کی صورت میں کئی کئی دن تک باندھ کربھوکا پیاسا رکھا جاتا۔جوآنا نے مزید بتایا کہ ”جب پہلی بار میرے سامنے ایک شخص کا ڈنڈوں سے سرمکمل طور پر کچلا گیا تو مجھے خوف اور کراہت محسوس ہوئی جو آہستہ آہستہ دور ہو گئی اور میں اس چیز سے لطف اندوز ہونے لگی۔ پھر میں خود مردوں کے سرقلم کرتی اور ان کا خون پیتی تھی۔اس وقت جوآنا فلوریڈا کی جیل میں قید ہے اور عدالت سے سزا پانے کی منتظر ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تلوم اور تلوم سے آگے


ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…