اتوار‬‮ ، 07 جون‬‮ 2026 

لاکھوں افراد کی موت کے احکامات کا ذریعہ نیلامی کیلئے پیش

datetime 3  فروری‬‮  2017 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) لاکھوں افراد کی موت کے احکامات صادر کرنے کا ذریعہ مشہور زمانہ ڈکٹیٹر ، نازی جرمنی کے سربراہ ایڈولف ہٹلر کا ٹیلی فون نیلامی کیلئے پیش کر دیا گیا ہےغیر ملکی میڈیا کے مطابق جرمنی میں فہرر(ہٹلر کا خطاب )بنکر سے دریافت ہونے والے نازی رہنما ایڈولف ہٹلر کے فون کو امریکا میں نیلامی کے لیے پیش کیا جا رہا ہے۔

یہ ٹیلی فون سیٹ 1945 سے انگلش کنٹری ہاؤس میں موجود ہے۔ نازی رہنما نے اس ٹیلی فون سے دوسری جنگ عظیم کے دوران کئی اہم احکامات جاری کیے تھے۔ یہ ٹیلی فون پہلے سیاہ رنگ کا تھا جسے بعد میں سرخ رنگ میں رنگا گیا اور اس پر ہٹلر کا نام اور ان کا مشہور نشان سواستکا کندہ ہے۔نیلام گھر کے مطابق اس فون کی مدد سے کی گئی فون کالز میں ایڈولف ہٹلر نے دنیا بھر کے لاکھوں لوگوں کی موت کے حکم جاری کیے تھے۔ جنگ عظیم دوئم کے خاتمے کے بعد برطانوی افسر رالف رینر نے اپنے برلن دورے میں اس فون کو ہٹلر کے بنکر سے دریافت کیا۔ رالف رینر کی وفات کے بعد یہ فون ان کے بیٹے رینالف رینر کے پاس پہنچا۔ رالف رینر نے اس ٹیلی فون کی اپنے پاس موجودگی کو ہمیشہ پوشیدہ رکھا کیونکہ اگر لوگوں کو اس بات کا علم ہوتا کہ برطانوی فوجیوں نے جرمن لوگوں کے مال میں لوٹ مار کی تو انہیں کورٹ مارشل کا سامنا کرنا پڑ سکتا تھا۔ماہرین نے نیلامی کا تخمینہ 4 لاکھ پاؤنڈ کا امکان ظاہر کیاہے جو 5 کروڑ سے زائد پاکستانی روپے بنتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تلوم اور تلوم سے آگے


ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…