اتوار‬‮ ، 13 ستمبر‬‮ 2026 

حکومت عدالتی معاملات میں مداخلت کرتی ہے،بریف کیس والے کام آج بھی ہوتے ہیں،پاناماپیپرزمیں وزیراعظم کانام،اگرقطری شہزادہ گواہی دینے نہ آیا؟سابق چیف جسٹس کے انکشافات پرنیاپنڈوراباکس کھل گیا

datetime 2  فروری‬‮  2017 |

اسلام آباد(آن لائن)سابق چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس(ر) سجاد علی شاہ نے کہا ہے کہ حکومت عدالتی معاملات میں مداخلت کرتی ہے،بریف کیس والے کام آج بھی ہوتے ہیں،پانامہ پیپرز میرے پاس بھی آئے تھے ان میں وزیراعظم کا نام نہیں،خط لکھنے والے قطری شہزادے کو عدالت میں طلب کرنا چاہئے،قطری شہزادہ اگر گواہی دینے عدالت نہیں اتا تو خط کی کوئی حیثیت نہیں۔

جمعرات کے روز نجی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے سابق چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس سجاد علی شاہ نے کہا کہ پانامہ کے پیپرز میرے پاس بھی آئے تھے ان میں وزیراعظم کا نام نہیں تھا،پیپرز میں شریف خاندان کے دوسرے افراد کے نام شامل تھے۔انہوں نے کہا کہ شریف خاندان نے فلیٹس کی ملکیت تسلیم کی ہے،بارثبوت شریف خاندان پر ہے،خط لکھنے والے شہزادے کو عدالت طلب کرسکتی ہے،عدالت کے پاس اختیارات ہیں،عدالت پر منحصر ہے کہ اس بارے میں کیا فیصلہ کرتی ہے،اگر قطری شہزادہ عدالت نہیں آتا تو خط کی کوئی اہمیت نہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ عدالت میں وہ بات ہونی چاہئے تو سچ ہو اور عدالت میں ایسی وضاحت آنی چاہئے کہ سچ سامنے آجائے،سچ تک پہنچنے کا مطلب مکمل انصاف دینا ہے۔جسٹس ریٹائرڈ سجاد علی شاہ نے کہا کہ حکومت عدالتی معاملات میں مداخلت کرتی ہے،ماضی میں سپریم کورٹ پر حملہ کیا گیا اور بریف کیس والے کام آج بھی ہوتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ عدالت وزراء کے بیانات پر ایکشن لے سکتی ہے،وزیراعظم سمیت کسی وزیر کو استثنیٰ حاصل نہیں ہے،عدالت کے اختیارات کم نہ کئے جائیں بلکہ بڑھائے جائیں

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)


ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…