بدھ‬‮ ، 23 ستمبر‬‮ 2026 

بھارت کاایک اورفوجی اپنے افسران کے کرتوت سامنے لے آیا،ہمارے فوج میں کیانام رکھے گئے ہیں ،ہماراکام کیاہوتاہے ؟ایسے ہوشرباانکشافات کہ بھارتی جرنیلوں کومنہ دکھانے کے قابل بھی نہ چھوڑا

datetime 2  فروری‬‮  2017 |

نئی دہلی (مانیٹرنگ ڈیسک) بھارت نے ایک طرف توخطے میں چوہدراہٹ کےلئے اربوں روپے دفاعی بجٹ میں جھونک دیئے ہیں اورخود کودنیاکی سب سے بڑی جمہوریت کھلوانے کادعویدارہے جبکہ دوسری طرف بھارتی فوجیوں کی یہ حالت ہے کہ دنیامیں سب سے زیادہ خودکشیاں بھارتی فوجی کررہے ہیں اوراب تویہ فوجی اپنے افسران کے ر ویوں کی وجہ سے بلاجھجک بولنے پرمجبورہوگئے ہیں جس کی وجہ سے
پچھلے کچھ ماہ سے تواتر کے ساتھ بھارتی فوجیوں کی ایسی وڈیوز منظر عام پر آرہی ہیں

جو ان کی حالت زار کی ترجمانی کررہی ہیں ۔اب ایک نئے بھارتی فوجی نے سوشل میڈیاپرایک ویڈیووائرل کردی ہے ۔اس نئی ویڈیومیں ایک فوجی یہ کہہ رہاہے کہ جوان کا کھانا خراب، جلی روٹی اور پانی والی دال کی ویڈیو جب سے وائرل ہو ئی ہےتوہمارے سابق جنرل بخشی نے توہم پرغداری کاالزام لگادیاہے ۔اس بھارتی فوجی نے ا پنی ویڈیومیں کہاہے کہ ’’جنرل بخشی صاحب! میوٹنی کا لفظ انگریز حکومت اور ان کی فوج کے خلاف سپاہیوں کا لفظ ہے اور تاریخ گواہ ہے کہ بھارت میں انگریزوں کے قبضے کے خلاف 1857 میں ہونے والی فوجی بغاوت میں انگریزوں نے اسی ’’میوٹنی‘‘ کا استعمال کرتے ہوئے بھارتی سپاہیوں کا کورٹ مارشل کیا تھا اور انہیں موت کی سزا بھی دی تھی۔ یہ بغاوت برطانوی حکومت کے انگریز افسروں کی بھارتی عوام اور بھارتی سپاہیوں کے خلاف مظالم اور سازشی سیاست کے خلاف تھا۔ آج نہ تو کوئی غیرملکی بھارت پر حکومت کررہا ہے اور نہ ہی بھارتی فوجی ملک کے غدار ہیں ۔اس فوجی نے مزیدبتایاکہ بھارتی افسرکالے انگریزہیں ،بھارت کے کمیشنڈافسروں اورفوجیوں میں ایک بڑاخلاہے اوریہ افسران ہمیں خادم، نوکر، ذاتی ملازم، بٹ مین اور بڈی جیسے ناموں کے ساتھ گھریلو نوکر بناکر رکھتے ہیں۔بھارتی فوجی نے بتایاکہ ہمارے افسران سرکاری بنگلے کی صفائی ستھرائی، بچوں کو سکول لے جانا، جوتا پالش کروانا، کتوں کو گھمانا، کتوں کی غلاظت صاف کرنااوران کی بیگموں کے کپڑے دھونااورکتوں کوصاف کرنابھی ہماری ڈیوٹی ہوتی ہے

۔اگرہم یہ نہ کریں توہمیں سزادی جاتی ہے اورکھانابھی ویسے ہی خراب ہے جس کی وجہ سے ہم لڑیںتوکیاکھڑے بھی نہیں ہوسکتے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…