اتوار‬‮ ، 13 ستمبر‬‮ 2026 

شام کو ہونے والے غیر ذمہ دارانہ تبصرے ،چیف جسٹس نے ٹی وی چینلزکےلئے خطرے کی گھنٹی بجادی

datetime 2  فروری‬‮  2017 |

اسلام آباد ( اے این این) غیر معیاری سٹنٹس کی فروخت سے متعلق ازخود نوٹس کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے ریمارکس دئیے ہیں کہ میڈیکل کی دنیا میں روز ترقی ہو رہی ہے لیکن پاکستان میںآج بھی مریضوں کو غیر معیاری سٹنٹس لگائے جا رہے ہیں۔ سٹنٹ کے حوالے سے معاملے کو سپریم کورٹ مانیٹر کرے گی۔

غیر معیاری سٹنٹس کی فروخت سے متعلق ازخود نوٹس کیس کی سماعت چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کی۔ اس موقع پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ آج بھی مریضوں کو غیر معیاری سٹنٹس لگائے جا رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بیانات سے عوام میں خوف و ہراس نہیں پھیلانا چاہتے تاہم عدالت شام کو ہونے والے غیر ذمہ دارانہ تبصروں پر پابندی کا فیصلہ کر سکتی ہے۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ اولین ترجیح آئندہ کے لئے معاملے کو بہتر کرنا ہے۔ جسٹس ثاقب نثار نے ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی کو حکم دیا کہ سٹنٹس کی رجسٹریشن سے متعلق درخواستوں کا فوری طور پر فیصلہ کیا جائے۔ سپریم کورٹ نے ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی (ڈریپ) کو سٹنٹ رجسٹریشن کے حوالے سے زیر التوا درخواستیں جلد سن کر نمٹانے کا حکم دیتے ہوئے آبزرویش دی ہے جنگی بنیادوں پر سٹنٹ کے معاملے کو حل کیا جائے، معاملہ اہم ہے اسے منطقی انجام تک پہنچائیں گے۔ غریب اور متوسط آدمی مہنگے سٹنٹ کیسے خریدے گا۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا قانونی معیار پر پورا اترنے والی سٹنٹ امپورٹ کرنے والی کمپنیوں کو رجسٹر کیا جائے۔ سٹنٹ کا ایشو پورے ملک کا ہے جبکہ حکومتی وکیل کا کہنا تھا کہ کمپنیوں کے سٹنٹ رجسٹرڈ ہیں۔ عدالت نے متعلقہ حکام سے پیر تک رپورٹ طلب کرتے ہوئے کیس کی سماعت 7 فروری بروزمنگل تک ملتوی کردی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)


ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…