پیر‬‮ ، 01 جون‬‮ 2026 

’’دودھ ‘‘کے نام پر ’’زہر‘‘ کی فروخت، ن لیگ کی اپنی ہی رہنماحکومت پر برس پڑیں،سنگین انکشافات

datetime 31  جنوری‬‮  2017 |

لاہور(آئی این پی )حکومتی رکن حناء پرویز بٹ نے لاہور میں دودھ کے نام پر زہر کی کھلے عام فروخت پر تحریک التواء جمع کروا دی ۔منگل کے روز پنجاب اسمبلی میں حنا پرویز بٹ نے اپنی تحریک التوائے کار میں کہا گیا ہے کہ مقامی اخبار کی خبر کے مطابق صوبائی دارالحکومت لاہور میں دودھ کے نام پر زہر کی کھلے عام فروخت ہو رہی ہے

جس کی وجہ سے جان لیوا بیماریوں میں دن بدن اضافہ ہو رہا ہے ٗ مزنگ ٗ گڑھی شاہو ٗ مغل پورہ ٗ ہربنس پورہ ٗ گلبرگ ٗ ماڈل ٹاؤن ٗ ٹاؤن شپ ٗ گرین ٹاؤن ٗ فیصل ٹاؤن ٗ علامہ اقبال ٹاؤن ٗ سبزہ زار ٗ سمن آباد ٗ چوبرجی ٗ راجگڑھ ٗ اچھرہ اور وحدت روڈ سمیت لاہور کی تقریباً تمام گلی محلوں میں دودھ دہی کی ہزاروں کے حساب سے دکانیں کھلی ہوئی ہیں جو کیمیکل ملا دودھ سرے عام فروخت کر رہے ہیں ٗ کیمیکل ملا دودھ فروختت کرنے والے دکانداروں کو چیک کرنے کیلئے پنجاب فوڈ اتھارٹی کا عملہ انتہائی کم دکھائی دیتا ہے ٗ شہر کے مختلف علاقوں میں دودھ کو گاڑھا کرنے اور محفوظ رکھنے کیلئے پلانٹ لگے ہوئے ہیں جن میں کیمیکل ملائے جاتے ہیں ٗ جس سے دودھ کافی دنوں کیلئے سٹور کیا جاتا ہے جو انسانی صحت کیلئے انتہائی نقصان دہ ہے۔ دودھ ٗ دہی کا معیار ہر روز الگ ہوتا ہے اور دکانوں پر صفائی کے بھی ناقص انتظامات ہوتے ہیں لیکن عوام مجبوراً اپنے بچوں کیلئے دودھ لینے پر مجبور ہیں۔ پنجاب فوڈ اتھارٹی کی طرف سے جب کارروائی عمل میں لائی جاتی ہے تو چند دن عوام کو بہتر دودھ ملتا ہے لیکن کچھ دن گزرنے کے بعد وہی ناقص ٗ ملاوٹ شدہ اور کیمیکل شدہ دودھ عوام کو ملنا شروع ہو جاتا ہے۔ عوام الناس زہریلے اور جان لیوا دودھ کی فروخت پر سراپا احتجاج اور ان کا حکومت سے پر زور مطالبہ ہے کہ ایسے اقدامات اٹھائے جائیں تاکہ ہمیشہ کیلئے خالص اور ملاوٹ سے پاک دودھ ان کو میسر ہو۔ مذکورہ تحریک کو ایک ہفتہ کیلئے ملتوی کر دی گیا۔



کالم



لکڑی کا تختہ


خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…