اسلام آباد (نیوز ڈیسک )چیئرمین آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی( اوگرا )سعیداحمد خان کو پٹرول بحران کی آڑ میں ہٹانے کا پلان وزیر اعظم سیکرٹریٹ میں تیار کیا گیا ،پلان کے تحت اس آئینی عہدہ پر وزیر اعظم سیکرٹریٹ کے دو طاقتورافسروں کو تعینات کرنے کی راہ ہموار کرنا تھا، اس ضمن میں اس تمام صورتحال سے باخبر واقفان حال نے اندرونی کہانی بتاتے ہوئے کہا ہے کہ 19 جنوری کو وزیراعظم سیکرٹریٹ میں تعینات ایڈیشنل سیکرٹری فواد حسن فواد نے چیئرمین اوگرا سعید احمد خان کو ٹیلیفون کر کے وزیر اعظم سیکرٹریٹ بلایا اور ان پر دباﺅ ڈالاکہ مستعفی ہو جائیں کیونکہ پٹرول بحران کے ذمہ دار آپ ہیں چیئرمین اوگرا سعیداحمد خان نے انہیں بتایا کہ وہ اس بحران کے ذمہ دار نہیں ہیں اس لئے مستعفی نہیں ہونگے جس پر انہیں کہا گیا کہ وہ نادرا کے سابق چیئرمین طارق ملک اور سابق سیکرٹری اطلاعات و نشریات و سابق چیئرمین پیمراچوہدری عبدالرشید کا انجام ذہن میں رکھیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ چیئرمین اوگرا کو دوسری کال وزیر اعظم سیکرٹریٹ سے 24 یا 25 جنوری کو کی گئی جس میں انہیں پیغام دیا گیا کہ وزیر اعظم کی صاحبزادی مریم نواز ان کے ساتھ ملاقات کرنا چاہتی ہیں سعید احمد خان وزیر اعظم سیکرٹریٹ پہنچے تو اس ملاقات میں مریم نواز کے علاوہ سابق سینیٹر طارق عظیم اور طلال چوہدری سمیت دیگر موجود تھے اس موقع پر چیئرمین اوگرا نے تمام صورتحال بیان کی اور اپنی بے گناہی کا بتایا جس میں طلال چوہدری نے اپنے ریمارکس دئیے کہ پٹرول بحران میں چیئرمین اوگرا سعید احمد خان تو قصور وار نہیں ہیں۔ ذرائع نے بتایا کہ اس ملاقات کا فواد حسن فواد کو علم ہوا تو انہوںنے اس پر سخت برہمی کا اظہار کیا اور یہ تاثر دیا کہ چیئرمین اوگرا سعید احمدخان ان کیخلاف لابنگ کر رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق وفاقی سیکرٹری کابینہ ڈویژن بابر یعقوب فتح محمد نے اس تمام معاملہ میں مصالحتی کردار ادا کرتے ہوئے چیئرمین اوگرا سعید احمد خان کو پیشکش کی کہ وہ طویل رخصت پر چلے جائیں تو ان کی صلح کرا دیتے ہیں تاہم سعید احمد خان نے یہ پیشکش قبول کرنے سے انکار کر دیا اور کہا کہ وہ اس معاملہ میں قصور وار (گلٹی )نہیں ہیں اس لئے رخصت پر جائینگے نہ ہی استعفیٰ دینگے۔ ذرائع نے بتایا ہے کہ اس تمام معاملہ پر وزیر اعظم کے مشیر بیرسٹر ظفراللہ خان سے مشاورت کی گئی تو انہوں نے رائے دی کہ چیئرمین اوگرا کا آئینی عہدہ ہے اور ہٹانے کا قانونی طریقہ کار موجود ہے قانون کی مطابق ان کے خلاف مس کنڈکٹ کا ریفرنس دائر کیا جا سکتا ہے تاہم انہیںجبری رخصت پر نہیں بھیجا جا سکتا تاہم وزیر اعظم سیکرٹریٹ کی طاقتور لابی نے چیئرمین اوگرا سعید احمد خان کیخلاف مس کنڈکٹ کا ریفرنس دائر کرنے کے ساتھ انہیں جبری رخصت پر بھی بھیج دیا ہے جس پر اب چیئرمین اوگرا نے اس فیصلے کو عدالت میں چیلنج کیا ہوا ہے۔ ذرائع کے مطابق وزیر اعظم کے سیکرٹری جاوید اسلم 10 نومبر 2015 ء کو ریٹائر ہو رہے ہیں اور ان کی خواہش ہے کہ وہ چیئرمین اوگراتعینات ہو جائیں جس کیلئے وہ لابنگ بھی کر رہے ہیں اس عہدہ پر وزیر اعظم کے ایڈیشنل سیکرٹری فواد حسن فواد کی بھی نظریں ہیں جبکہ وہ بیرون ملک کوئی عہدہ لینے کیلئے کوششیں کر رہے ہیں۔
پٹرول بحران کی آڑ میں چیئرمین اوگرا ہٹانے کا پلان وزیر اعظم سیکرٹریٹ میں تیارکرنےکا انکشا ف
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)
-
عید میلاد النبیؐ کی چھٹی کس دن ہوگی؟ بڑی خبر آگئی
-
حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید کمی کردی
-
ایجوکیشن اتھارٹی کاموسمِ گرما کی تعطیلات بارے نجی تعلیمی اداروں کے لیے سخت حکم نامہ جاری
-
بجلی کے ہر یونٹ پر 5 روپے سیلز ٹیکس نافذ، اطلاق کن صارفین پرہوگا؟
-
سرکاری ملازمین کی تنخواہیں، وزارت خزانہ نے نئی وضاحت جاری کردی
-
نیٹ بلنگ قوانین کے نفاذ کے بعد پاکستانیوں نے متبادل حل نکال لیا
-
سولر صارفین کے لیے بڑی خوشخبری آگئی
-
لاہور؛ اے ایس آئی کی لڑکی سے مبینہ زیادتی اور تھانہ معطلی کی اندرونی کہانی سامنے آگئی
-
عماد وسیم کی سابقہ اہلیہ ثانیہ اشفاق نے دوسری شادی کر لی؟
-
حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اعلان کردیا
-
سعودی عرب کے ورک ویزے کے خواہشمند پاکستانی ہوشیار ہوجائیں !
-
اسلام آباد، پنجاب، خیبرپختونخوا، سندھ اور آزاد کشمیر میں بارشوں کی پیشگوئی، ادارے الرٹ
-
پنجاب حکومت نے گندم کی ریلیز پرائس مقرر کر دی



















































