ہفتہ‬‮ ، 12 ستمبر‬‮ 2026 

پی آئی اے کی بحالی یا نجکاری،حکومت نے بالاخر حتمی فیصلے کا اعلان کردیا

datetime 21  جنوری‬‮  2017 |

اسلام آ باد ( آ ئی این پی ) وفاقی وزیر منصو بندی وترقی احسن اقبال نے کہاکہ 2017 پی آئی اے کی بحالی کا سال ہو گا، پی آئی کی انتظامیہ اور ملازمین کے پاس ادارے کی حالت بہتر بنانے کا یہ آخری موقع ہے،پی آئی آے کو ایک اور سٹیل ملز بننے کی اجازت نہیں دی جا سکتی ،ماضی میں ادارے کو سیاست کی نذر کیا گیا

جو ادارے کی تباہی کی بڑے وجہ بنا ،ادارے میں ہر سطح پر احتساب کو لازم قرار دیا جائے ،پی آئی اے کی مالی حالت اور ادارے میں بہتری لائی جائے گی،ادارے کی بہتری کے لیے ٹھوس ماسٹر پلان کی ضرورت ہے،سینئرانتظامیہ ادارے کی بحالی کے لیے26 جنوری تک دو سال کا جامع ابتدائی پلان تیار کرے،معیاری سروس ، وقت کی پابندی اور اذریعے صارفین کا پی آئی اے پر اعتماد بحال کیا جا ئے گا ۔ وہ ہفتہ کو پی آئی اے کی اصلاحات کی نگرانی کے لئے قائم خصوصی کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کررہے تھے ۔اجلاس میں نج کاری کمیشن کے چیئرمین محمد زبیر ،سیکرٹری اقتصادی امور ڈویژن طارق باجوہ نے شرکت کی۔سیکریٹری سول ایوی ایشن اتھارٹی نے کمیٹی کو بریفنگ دی۔وفاقی وزیر ترقی و منصو بہ بندی احسن اقبال نے اجلاس سے خطا ب کرتے ہوئے کہاکہ پی آئی اے کو عالمی معیار کی ائیر لائن بنانے کے لیے واضح اور صاف ویژن، میرٹ پر عملدرآمد ، انسانی وسائل کی ترقی پر توجہ اور احتساب لازم ہے۔پی آئی کی انتظامیہ اور ملازمین کے پاس ادارے کی حالت بہتر بنانے کا یہ آخری موقع ہے ۔پی آئی آے کو ایک اور سٹیل ملز بننے کی اجازت نہیں دی جا سکتی ۔

ایئرلائن کے مضبوط بنیادی اصول ہیں ، لیکن اس کے باوجود یہ نقصان میں ہے ۔ماضی میں ادارے کو سیاست کی نظر کیا گیا ، جو ادارے کی تباہی کی بڑے وجہ بنا ۔واضح روڈ میپ اور بزنس ماڈل کے بغیر ادارے کی بحالی کے حوالے سے کوئی کامیابی حاصل نہیں کی جا سکتی۔ادارے میں ہر سطح پر احتساب کو لازم قرار دیا جائے۔ادارے کی کاکردگی کا مسلسل جائزہ لیا جانا ضروری ہے۔سال 2017 پی آئی اے کی بحالی کا سال ہو گا۔پی آئی اے کی مالی حالت اور ادارے میں بہتری لائی جائے گی۔ادارے کی بہتری کے لیے ٹھوس ماسٹر پلان کی ضرورت ہے۔سینئر انتظامیہ ادارے کی بحالی کے لیے26 جنوری تک ، دو سال کا جامع ابتدائی پلان تیار کرے۔یہ پلان وزیر اعظم کے سامنے پیش کیا جائے گا۔پی آئی اے کو حکومتی محکمے کے طور پر چلایا نہیں جا سکتا۔ان روٹس پر توجہ دی جائیگی جو نقصان میں ہے۔فلیٹ میں نئے طیارے شامل کیے جائیں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)


ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…