پیر‬‮ ، 01 جون‬‮ 2026 

مسیحی میاں بیوی میں طلاق نہیں ہوسکتی ؟ہائی کورٹ میں کیس کی سماعت،حکومت کا حیرت انگیز موقف سامنے آگیا

datetime 20  جنوری‬‮  2017 |

لاہور(آئی این پی) چیف جسٹس لاہورہائیکورٹ مسٹر جسٹس سید منصور علی شاہ نے کر سچین قانون طلاق کو آئین سے متصادم قرار دینے کے لئے دائر درخواست پروکلاکے دلائل مکمل ہونے پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔لاہور ہائیکورٹ میں مسیحی قانون طلاق کے خلاف الیاس بھٹی کی جانب سے دائر درخواست کی سماعت کے موقع پر وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق کامران مائیکل نے عدالت کوبا ئیبل کی آیت پڑھ کر سنائی اور کہا کہ الہامی قانون کو تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔بنیادی حقوق کے نام پرالہامی قانون میں تبدیلی مذہبی اصولوں کے منافی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ملک بھر کے بشپس کے ساتھ مل کر قانون میں موجود سقم دور کرنے کے حوالے سے سفارشات مرتب کی جا رہی ہیں۔صوبائی وزیر برائے اقلیتی امور خلیل طاہر سندھو کے علاوہ کیتھولک،پروٹسٹنٹ چرچ سمیت دیگر چرچ کے بشپس نے عدالت میں موقف اختیار کیا کہ بائیبل کی تعلیمات کے تحت مسیحی میاں بیوی کا رشتہ کسی صورت نہیں توڑا جا سکتا۔اقلیتی رکن پنجاب اسمبلی میری گل نے عدالت کوآگاہ کیا کہ مسیحی قانون طلاق کے نتیجے میں خواتین مذہب ترک کر کے ز ندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔انہوں نے کہا کہ آئین میں مرد و عورت کی تخصیص کے بغیرعورتوں کوطلاق کے مساوی حقوق حاصل ہیں،مسیحی قانون طلاق واضح طور پر امتیازی قانون ہے۔چیف جسٹس منصور علی شاہ نے دوران سماعت ریمارکس دئیے کہ عدالت مسیحی برادری بالخصوص خواتین کی مدد کرنا چاہتی ہے ۔درخواست گزار کے وکیل شیراز ذکاکا کہنا تھا کہ مسیحی قانون طلاق بنیادی حقوق اور اخلاقیات کے عالمی قوانین سے متصادم ہے۔انہوں نے عدالت کو آگاہ کیا کہ مسیحی قانون طلاق کے تحت کوئی بھی عیسائی اس وقت تک اپنی بیوی کو طلاق نہیں دے سکتا جب تک اس پر بد چلنی کا الزام لگا کر اسے ثابت نہ کر دے۔انہوں نے کہا کہ عدالت بنیادی حقوق سے متصادم اس ایکٹ کو کالعدم قرار دے



کالم



لکڑی کا تختہ


خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…