اسلام آباد(نیوز ڈیسک)امریکہ کے صدربا راک اوباما نے امریکی کانگریس کے رپبلکن سینیٹرز کی جانب سے ایران کے نام خط پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایوانِ نمائندگان کے ان ارکان نے جوہری پروگرام پر جاری بات چیت میں ’مداخلت‘ کی ہے۔ خط لکھنے والے 47 سینیٹرز نے ایک طرح سے ایران کے سخت گیر رہنماو¿ں کے ساتھ ’غیرمعمولی اتحاد‘ کر لیا ہے۔47 ریپبلکن سینیٹرز کی جانب سے دستخط شدہ اس خط میں ایران کو یاد دلایا گیا ہے کہ اس کے جوہری پروگرام پر کوئی بھی معاہدہ اس وقت تک صرف ایک ’ایگزیکیٹو ایگریمنٹ‘ ہی رہے گا جب تک کانگریس اس کی منظوری نہیں دے دیتی۔اس وقت ایران کے جوہری پروگرام پر عالمی مذاکرات نازک موڑ پر ہیں اور اس سلسلے میں معاہدہ طے پانے کے لیے حتمی مدت 31 مارچ کو ختم ہو رہی ہے۔خط پر تبصرہ کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا ہے کہ ’میرے خیال میں یہ کچھ مضحکہ خیز سی بات ہے کہ کانگریس کے کچھ ارکان ایران کے سخت گیر عناصر کے ہمراہ ایک نکتے پر اکھٹا ہونا چاہیں۔‘ان کا کہنا تھا کہ ’یہ تو ایک غیرمعمولی اتحاد ہے۔براک اوباما کے مطابق وہ ایران کے جوہری معاہدے پر بات چیت کو نتیجہ خیز بنانے کے لیے کوششوں پر توجہ مرکوز رکھیں گے۔اس سے قبل امریکی صدر کے دفتر کی جانب سے کہا گیا تھا کہ خط نے سفارتی بات چیت میں خلل ڈالا ہے۔ وائٹ ہاو¿س کے پریس سیکریٹری جوش ارنسٹ کا کہنا تھا کہ ’یہ جنگ کی جانب تیزی سے بڑھنے جیسا ہے یا کہیں کہ کم از کم عسکری مداخلت کی جانب تیزی سے بڑھنے جیسا ہے۔‘ایران نے بھی اس خط کو پروپیگنڈے کی کوشش قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔ ایرانی وزیرِ خارجہ جواد ظریف نے کہا ہے کہ اگر اگلی امریکی حکومت کسی معاہدے کو ختم کرتی ہے تو یہ عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہوگی۔ایرانی حکام کے نام اپنے خط میں امریکی سینیٹروں نے کہا ہے ممکن ہے کہ ایرانی رہنما امریکہ کے آئینی نظام سے مکمل طور پر واقف نہ ہوں۔انھوں نے کہا ہے کہ کوئی بھی ایسا معاہدہ جسے کانگریس کی حمایت حاصل نہیں محض امریکی صدر براک اوباما اور ایران کے روحانی پیشوا آیت اللہ خامنہ ای کے درمیان ہونے والا معاہدہ ہی ہوگا۔سینیٹرز نے یہ بھی کہا ہے کہ ان میں سے بیشتر اس وقت بھی ایوان کے رکن ہوں گے جب جنوری 2017 میں براک اوباما کے دورِ اقتدار کی مدت ختم ہو جائے گی۔دریں اثنا امریکی حکام نے تصدیق کی ہے کہ وزیرِ خارجہ جان کیری جوہری پروگرام پر بات چیت کے لیے اتوار کو سوئٹزرلینڈ میں اپنے ایرانی ہم منصب جواد ظریف سے ملاقات کریں گے۔
ایران کے نام کانگریس کا خط جوہری بات چیت میں مداخلت ہے ،اوباما
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)
-
دکانوں اور مارکیٹس کے نئے اوقات کار جاری، اب کتنے بجے بند ہوں گی؟
-
190 ملین پاؤنڈ کیس: اسلام آباد ہائیکورٹ نے بانی پی ٹی آئی کی سزا معطلی درخواست پر فیصلہ سنادیا
-
بہت جلد پٹرول قیمتوں میں کمی کا عندیہ
-
سرکاری ملازمین کو ایڈوانس تنخواہیں دینے کا نوٹیفکیشن جاری
-
وزیراعظم اپنا گھر پروگرام : قرض حاصل کرنے کے خواہشمند افراد کے لیے اہم خبر
-
راولپنڈی،ہوٹل میں متعدد بار زیادتی کے بعد خاتون حاملہ، پیدا ہونے والی بچی بھی چھین لی گئی
-
اپریل میں بارشیں معمول سے زیادہ ریکارڈ، آئندہ 3ماہ کا موسمی آئوٹ لک بھی جاری
-
اطالوی وزیراعظم کا اپنی نازیبا تصویر پر ردعمل
-
معروف اداکار کی سیاسی جماعت بازی لے گئی
-
بجلی کے بھاری بلوں میں ریلیف! بجلی صارفین کے لیے بڑی خوشخبری آگئی
-
ٹرمپ نے اپنی اور کابینہ ممبرز کی نیم برہنہ تصویر پوسٹ کردی
-
سونے کی قیمت میں مسلسل دوسرے روز بھی کمی
-
زلزلے کے جھٹکے ، لوگ کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے گھروں سے باہر نکل آئے



















































