ہفتہ‬‮ ، 08 اگست‬‮ 2026 

ووٹ لینے اب یہاں نہ آنا،بھارت میں مسلمانوں کے سب سے بڑی مرکز نے سیاستدانوں کوسرپرائز دیدیا

datetime 16  جنوری‬‮  2017 |

نئی دہلی (آئی این پی) بھارت میں ریاستی انتخابات سے قبل دارالعلوم دیو بند نے سیاستدانوں کیلئے دروازے بند کردیے۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق فروری کے پہلے ہفتے سے مارچ کے وسط تک بھارت کی ریاست اتر پردیش سمیت ملک کی پانچ ریاستوں میں اسمبلی انتخابات ہونے والے ہیں۔دارالعلوم دیوبند کے ایک ترجمان نے بتایا ہے کہ انتخابات کی تکمیل تک کسی بھی جماعت کے امیدوار کو سیاسی مقاصد کے لیے کیمپس میں آنے کی اجازت نہیں ہو گی۔

انھوں نے یہ بھی کہا کہ اگرچہ کسی کو کیمپس میں آنے سے روکا نہیں جا سکتا لیکن اس مدت میں دارالعلوم کے سربراہ اور دوسرے بڑے اساتذہ بھی کسی جماعت کے مسلم رہنماؤں سے ملاقات نہیں کریں گے۔دارالعلوم نے بظاہر یہ قدم کسی غیر ضروری سیاسی تنازعے سے بچنے کے لیے اٹھایا ہے۔ ماضی میں انتخابات کے دوران سیاسی جماعتوں کے رہمنا مسلمانوں کی حمایت حاصل کرنے کی غرض سے دارالعلوم کا دورہ کرتے رہے ہیں۔سرکردہ اسلامی درسگاہ کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا کہ دارالعلوم میں سیاستدانوں یا سیاست میں سرگرم افراد کے داخلے پر پابندی عائد ہے۔ ‘طلبا اور اساتذہ کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ کسی طرح کے سیاسی بحث و مباحثے سے گریز کریں۔ ہم اپنی مذہبی درسگاہ کو سیاسی مقاصد کے حصول کے لیے استعمال نہیں ہونے دیں گے۔طلبا اور اساتذہ کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ کسی طرح کے سیاسی بحث و مباحثے سے گریز کریں۔ریاست اتر پردیش کے اسمبلی انتخابات کے پہلے مرحلے میں دیو بند سمیت مغربی اتر پردیش کے 73 حلقوں میں 11 فروری کو ووٹ دالے جائیں گے۔دیو بند قصبہ سہارنپور ضلع میں واقع ہے۔بھارت کی سب سے بڑی ریاست میں مسلمانوں کی آبادی تقریباً بیس فی صد ہے اور وہ کسی بھی پارٹی کی ہار جیت میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ریاست میں اس بار مقابلہ حکمراں سماج وادی پارٹی، بہوجن سماج پارٹی اور بی جے پی کے درمیان ہے۔ کانگریس تقریبیب اً پچیس برس کے وقفے کے بعد خود کو اوپر لانے کی کوشش کر رہی ہے۔

مسلمانوں کے ووٹ کم و بیش سماج وادی اور بہوجن سماج پارٹی کے درمیان منقسم ہیں۔دارالعلوم دیوبند انتخابات میں براہ راست کسی جماعت یا اتحاد کی حمایت سے گریز کرتا رہا ہے۔ لیکن دارالعلوم سے وابستہ کئی اہم شخصیات انتخابی سیاست میں سرگرم رہی ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)


میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…