جمعہ‬‮ ، 28 اگست‬‮ 2026 

کابل میں پاکستانی سفارتخانے پر دھاوا بول دیاگیا

datetime 13  جنوری‬‮  2017 |

کابل(آئی این پی )افغانستان کے کے دارالحکومت کابل میں شرپسندوں نے پاکستانی سفارتخانے پر دھاوا بول دیا اور عمارت میں توڑپھوڑکی کوشش کی جس پر پاکستان نے افغان حکام سے سفارتی عملے کو سیکیورٹی دینے کا مطالبہ کردیا ،اس سے پہلے شرپسندوں نے سفارتخانے کے باہر مظاہرہ بھی کیا ۔

جمعہ کو غیر ملکی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق کابل میں افغان پارلیمنٹ کے قریب دھماکے کے خلاف شرپسندوں کی جانب سے پاکستانی سفارتخانے کے باہر مظاہرہ کیا گیا، مظا ہرے میں شامل شر پسند جتھے نے پاکستانی سفارت خانے میں گھسنے اور عمارت میں توڑ پھوڑ کی کوشش کی۔ذرائع کے مطابق کابل میں پاکستانی قونصل خانے کے سامنے این ڈی ایس کے سابق ڈپٹی چیف امراللہ صالح پاکستان مخالف مظاہرے کی قیادت کررہے تھےمیڈیا کی رپورٹس کے مطابق مظاہرین نے ہاتھوں میں بینرز بھی اٹھا رکھے تھے، جن میں پاکستان اور اس کے اہم اداروں کے خلاف نعرے درج تھے۔ افغان ٹی وی طلوع نیوز کی ایک رپورٹ میں کہا گیا کہ پاکستانی سفارت خانے کے باہر مظاہرہ کرنے والے افغانستان گرین ٹرینڈ (اے جی ٹی) کے کارکن تھے، جنہوں نے پاکستان کے دہشت گردی میں مبینہ کردار پر سفارت خانے کے باہر احتجاج کیا۔مظاہرین کا پاکستانی سفارت خانے پر افغانستان میں جاسوسوں کا جال ہونے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہنا تھا آئی ایس آئی دہشت گردوں کو مدد فراہم کرتی ہے اور افغانستان میں حالیہ دہشت گردی میں ملوث ہے۔یاد رہے کہ قبل ازیں پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان نفیس زکریا کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ پاکستان اپنی سرزمین کسی صورت دوسرے ممالک کے خلاف حملوں کے لیے استعمال نہیں ہونے دے گا۔ان کا کہنا تھا کہ افغانستان کی غیر مستحکم صورتحال کی وجہ سے کئی دہشت گرد تنظیمیں وہیں فعال ہیں اور اسی باعث حقانی نیٹ ورک، تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) افغان طالبان، داعش، القاعدہ اور جماعت الاحرار جیسے عناصر کو جگہ مل گئی ہے، افغانستان میں سیکیورٹی کی بدترین صورتحال کے ہوتے ہوئے مشکلات کا ذمہ دار دوسروں کو ٹھہرانا درست نہیں، بالخصوص دہشت گردوں کے

محفوظ ٹھکانوں سے متعلق بار بار دہرائے گئے دعوے صرف بیان بازی ہیں۔ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان، افغانستان میں قیامِ امن کے لیے سرگرم ہے کیونکہ افغانستان کا امن نہ صرف خطے بلکہ پاکستان کے مفاد کے لیے بھی بہت اہم ہے، لیکن یہ بدقسمتی کی بات ہے کہ افغانستان کے استحکام کے لیے ہماری پرخلوص کوششوں کو بدنام کیا جارہا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…