منگل‬‮ ، 03 مارچ‬‮ 2026 

کابل میں پاکستانی سفارتخانے پر دھاوا بول دیاگیا

datetime 13  جنوری‬‮  2017 |

کابل(آئی این پی )افغانستان کے کے دارالحکومت کابل میں شرپسندوں نے پاکستانی سفارتخانے پر دھاوا بول دیا اور عمارت میں توڑپھوڑکی کوشش کی جس پر پاکستان نے افغان حکام سے سفارتی عملے کو سیکیورٹی دینے کا مطالبہ کردیا ،اس سے پہلے شرپسندوں نے سفارتخانے کے باہر مظاہرہ بھی کیا ۔

جمعہ کو غیر ملکی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق کابل میں افغان پارلیمنٹ کے قریب دھماکے کے خلاف شرپسندوں کی جانب سے پاکستانی سفارتخانے کے باہر مظاہرہ کیا گیا، مظا ہرے میں شامل شر پسند جتھے نے پاکستانی سفارت خانے میں گھسنے اور عمارت میں توڑ پھوڑ کی کوشش کی۔ذرائع کے مطابق کابل میں پاکستانی قونصل خانے کے سامنے این ڈی ایس کے سابق ڈپٹی چیف امراللہ صالح پاکستان مخالف مظاہرے کی قیادت کررہے تھےمیڈیا کی رپورٹس کے مطابق مظاہرین نے ہاتھوں میں بینرز بھی اٹھا رکھے تھے، جن میں پاکستان اور اس کے اہم اداروں کے خلاف نعرے درج تھے۔ افغان ٹی وی طلوع نیوز کی ایک رپورٹ میں کہا گیا کہ پاکستانی سفارت خانے کے باہر مظاہرہ کرنے والے افغانستان گرین ٹرینڈ (اے جی ٹی) کے کارکن تھے، جنہوں نے پاکستان کے دہشت گردی میں مبینہ کردار پر سفارت خانے کے باہر احتجاج کیا۔مظاہرین کا پاکستانی سفارت خانے پر افغانستان میں جاسوسوں کا جال ہونے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہنا تھا آئی ایس آئی دہشت گردوں کو مدد فراہم کرتی ہے اور افغانستان میں حالیہ دہشت گردی میں ملوث ہے۔یاد رہے کہ قبل ازیں پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان نفیس زکریا کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ پاکستان اپنی سرزمین کسی صورت دوسرے ممالک کے خلاف حملوں کے لیے استعمال نہیں ہونے دے گا۔ان کا کہنا تھا کہ افغانستان کی غیر مستحکم صورتحال کی وجہ سے کئی دہشت گرد تنظیمیں وہیں فعال ہیں اور اسی باعث حقانی نیٹ ورک، تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) افغان طالبان، داعش، القاعدہ اور جماعت الاحرار جیسے عناصر کو جگہ مل گئی ہے، افغانستان میں سیکیورٹی کی بدترین صورتحال کے ہوتے ہوئے مشکلات کا ذمہ دار دوسروں کو ٹھہرانا درست نہیں، بالخصوص دہشت گردوں کے

محفوظ ٹھکانوں سے متعلق بار بار دہرائے گئے دعوے صرف بیان بازی ہیں۔ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان، افغانستان میں قیامِ امن کے لیے سرگرم ہے کیونکہ افغانستان کا امن نہ صرف خطے بلکہ پاکستان کے مفاد کے لیے بھی بہت اہم ہے، لیکن یہ بدقسمتی کی بات ہے کہ افغانستان کے استحکام کے لیے ہماری پرخلوص کوششوں کو بدنام کیا جارہا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



اختتام کا آغاز


’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…