جمعہ‬‮ ، 31 جولائی‬‮ 2026 

طیبہ تشدد کیس ، سپریم کورٹ آف پاکستان نے حکم جاری کرد یا

datetime 6  جنوری‬‮  2017 |

اسلام آباد(این این آئی) سپریم کورٹ آ ف پاکستان نے ڈی آئی جی اسلام آباد پولیس کو طیبہ تشدد کیس کی تحقیقات کیلئے کمیٹی بنانے کا حکم دیتے ہوئے 3 روزمیں رپورٹ طلب کرلی جبکہ چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا ہے کہ چاہتے ہیں کہ بچی کا جلد طبی معائنہ کرایا جائے تا کہ ثبوت ضائع نہ ہوں اور پولیس صرف سچ کوسامنے لائے ٗاگر والدین اپنے بچوں کو تحفظ نہیں دے سکتے تو عدالت ان کی محافظ بنے گی۔
جمعہ کو چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثارکی سربراہی میں سپریم کورٹ کے دورکنی بینچ نے ایڈیشنل سیشن جج کے گھر ملازمہ پرتشدد کے ازخود نوٹس کیس کی سماعت کی۔عدالت میں ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج راجہ خرم علی خان کی اہلیہ کو بھی پیش کیا گیا۔ عدالت نے ڈی آئی جی پولیس کو ہدایت کی کہ تحقیقات کیلئے کمیٹی بنائی جائے اور3 روزمیں رپورٹ پیش کی جائے جس پرپولیس کی جانب سے رپورٹ کی تیاری کیلئے 2 ہفتوں کی مہلت کی استدعا کی گئی جسے عدالت نے مسترد کردیا۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ہم چاہتے ہیں کہ بچی کا جلد طبی معائنہ کرایا جائے تا کہ ثبوت ضائع نہ ہوں اور پولیس صرف سچ کوسامنے لائے۔
انہوں نے استفسار کیا کہ بنیادی انسانی حقوق کے معاملات پرراضی نامے نہیں ہو سکتے ٗ والدین بھی بچوں کو بنیادی حقوق سے محروم نہیں رکھ سکتے پھر یہ راضی نامہ کیسے ہوگیا۔عدالت کے روبروطیبہ کی والدہ نے موقف اختیار کیا کہ وہ فیصل آباد کی رہائشی ہے اور طیبہ اس کی بیٹی ہے جو 2014 میں لاپتہ ہوگئی تھی۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ بچی آپ کی ہے یہ آپ کو کیسے معلوم ہوا، جس پر کوثر بی بی نے کہا کہ اس نے میڈیا پر بچی کی تصاویردیکھی تھیں اس سے انہیں پتہ چلا کہ یہ بچی اس کی لاپتہ بیٹی ہے۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ بچی کے والدین ہونے کے دعویداروں کے ٹیسٹ کروائے جائیں، اس کے علاوہ میڈیا پر چلنے والی تصاویرکا بھی فورنزک ٹیسٹ کروایا جائے ۔چیف جسٹس نے کہاکہ اگر والدین اپنے بچوں کو تحفظ نہیں دے سکتے تو عدالت ان کی محافظ بنے گی ۔ بعد ازاں سپریم کورٹ نے کیس کی مزید سماعت 11 جنوری تک ملتوی کرتے ہوئے بچی اوراسسٹنٹ کمشنرپوٹھوہارکو ہرصورت پیش ہونے کا حکم دے دیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



Foot In The Door


خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…

وراثت

بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…

ووزی ناں (Vozinha)

وہ بچپن سے فٹ بال کھیل رہا تھا‘ والد کا انتقال…