بدھ‬‮ ، 07 اکتوبر‬‮ 2026 

سال 2016کے اختتام پر ہر پاکستانی کتنے لاکھ روپے کا مقروض ہے ؟ جان کر آپ کو حکومتی پالیسیوں پر شدید غصہ آئے گا

datetime 2  جنوری‬‮  2017 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان کی تازہ ترین معاشی رپورٹس کے مطابق سال 2016 میں حکومتی اخراجات اور شاہ خرچیوں سے قرضے کا بوجھ بڑھ گیا ہے اور اب ہر پاکستانی اوسطا 1 لاکھ 15 ہزار 911 روپے کا مقروض ہو چکا ہے۔ پاکستان کے قرضوں اور واجبات میں سال کے دوران 26 کھرب 90 ارب روپے کا اضافہ ہوا۔سٹیٹ بینک کے مطابق پاکستان کے واجب الادا قرضوں اور واجبات کا مجموعی حجم 233 کھرب 89 ارب 60 کروڑ روپے ہو گیا ان میں بیرونی قرضے اور واجبات 78 کھرب 14 ارب 20 کروڑ روپے ہیں۔
سال کے دوران صرف وفاقی حکومت کے اندرونی قرضے 14 کھرب 31 ارب 40 کروڑ روپے کے اضافے سے 140 کھرب 89 ارب روپے کی سطح تک پہنچ گئے جبکہ آئی ایم ایف کا قرض شامل کر کے بیرونی قرضوں کا حجم 6 کھرب روپے کے اضافے سے 62 کھرب 20 کروڑ روپے ہو گیا ہے۔اس دوران حکومتی اداروں اور کارپوریشنوں کے اندرونی اور بیرونی قرضے 1 کھرب 19 ارب روپے کے اضافے سے 8 کھرب 72 ارب روپے سے تجاوز کر گئے جبکہ نجی شعبے کے غیر ملکی قرضوں کا حجم 121 ارب روپے کے اضافے سے 6 کھرب 83 ارب روپے ہو گیا۔معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ حالات یہی رہے تو پاکستانی معیشت کو بڑا دھچکا لگ سکتا ہے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(نواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…