ہفتہ‬‮ ، 04 اپریل‬‮ 2026 

مردوں کے بٹن دائیں اور خواتین کے بائیں جانب کیو ں ہو تے ہیں ؟ جانئے دلچسپ واقع

datetime 27  ستمبر‬‮  2016 |

بہت سے لوگوں کے دلوں میں شاید یہ سادہ سا سوال آتا ہو کہ مردوں کی قمیض کے بٹن دائیں جانب اور خواتین کی قمیض کے بائیں جانب ہونے کی وجہ کیا ہے۔ اس سلسلے میں پانچ نقاط بیان کیے گئے ہیں جومندرجہ ذیل ہیں :
1- مال دار خواتین اپنا لباس خادموں کی معاونت سے پہننے کی عادی ہوتی تھیں اور یہ خادم اپنا دایاں ہاتھ استعمال کرنے کا رجحان رکھتے تھے جب کہ مرد اپنا لباس خود پہننے کا رجحان رکھتے تھے۔ اُس زمانے میں بٹن کا شمار قیمتی اشیاء میں ہوتا تھا اور اس کو وہ صاحب ثروت خواتین ہی استعمال کیا کرتی تھیں جن کے پاس بٹنوں کو لگانے اور کھولنے کے لیے معاون خادمات میسر ہوتی تھیں۔ بعد ازاں نسبتا کم دولت مند خواتین نے بھی صاحب ثروت خواتین کی روش اپناتے ہوئے بٹن کو بائیں جانب رکھنا شروع کردیا۔
2- مرد اپنی تلواروں کو دائیں ہاتھ میں تھاما کرتے تھے۔ لہذا بٹن کھولنے کے لیے بائیں ہاتھ کا استعمال زیادہ آسان اور جلد ممکن ہوتا تھا۔ دوسری جانب خواتین میں اپنے شیرخوار بچوں کو بائیں ہاتھ میں تھامنے کا رجحان تھا۔ اس لیے بٹن کا بائیں جانب ہونا ان کے لیے دائیں ہاتھ سے بٹن کھولنے میں آسانی کا باعث ہوتا تھا۔
3- خواتین کو گھوڑوں پر ایک جانب ٹانگیں لٹکا کر سواری کی عادت ہوتی تھی۔ لہذا بٹنوں کو بائیں جانب لگانے سے اس پوزیشن میں ان کی قمیصوں میں ہوا کم داخل ہوتی تھی۔ دوسری جانب مرد گھوڑوں پر پنڈلیاں پھیلا کر بیٹھا کرتے تھے۔ اس پوزیشن میں وہ اپنے دائیں ہاتھ سے تلوار کے استعمال کے ذریعے سامنے سے آنے والے سوار سے آسانی کے ساتھ لڑ لیتے تھے۔

4- نپولیئن بوناپارٹ کی تصاویر سے عام طور پر ظاہر ہوتا ہے کہ اس کا دایاں ہاتھ اس کے کوٹ کے اندر مُڑا ہوتا تھا۔ یہ اسی وقت ممکن ہے جب بٹن دائیں جانب لگے ہوں۔ نپولیئن نے حکم جاری کیا تھا کہ خواتین کی تمام قمیضوں کے بٹن مردوں کے مخالف جانب رکھے جائیں۔ اس لیے کہ خواتین ہاتھوں کو اپنی قمیصوں میں ڈال کر مذاق کیا کرتی تھیں۔

5- خواتین کے لباس کو مردوں کے لباس کے قریب خصوصیات سے متصف کیا گیا تاکہ اس بات کو ثابت کرنے کی کوشش کی جاسکے کہ خواتین مردوں سے کسی طور کم نہیں۔ تاہم اس کے ساتھ ساتھ بعض ایسے اجزاء بھی متصل ہوئے جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ درحقیقت خواتین مردوں سے مختلف واقع ہوئی ہیں۔ بٹن کا بائیں جانب رکھنا بھی اسی احساس کے اظہار کا ایک انداز ہے۔وسیع پیمانے پر کپڑوں کی تیاری کا دور شروع ہونے تک کوئی یکساں معیار نہیں تھے۔ اس موقع پر کپڑے تیار کرنے والوں نے خیال کیا کہ یہ ہر انسانی نوع کے لیے مختلف لباس تیار کرنے کی ایک اچھی حکمت عملی ہے۔ دوسرے الفاظ میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ دونوں صنفوں کی ضرورت کے درمیان اختلاف پر توجہ دینے کا آغاز ، وسیع پیمانے پر کپڑوں کی تیاری کے دور کی وجہ سے ہوا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



مشہد میں دو دن


ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…