جمعہ‬‮ ، 28 اگست‬‮ 2026 

میں بھی ایک بیٹا، بھائی، شوہر اور والد ہوں اور میں ۔۔۔! آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے ایسا کسے اور کیوں کہا ؟ جان کر آپ اپنے سپہ سالار پر فخر کریں گے

datetime 17  دسمبر‬‮  2016 |

پشاور(مانیٹرنگ ڈیسک) سانحہ اے پی ایس کی دوسری برسی کی آرمی پبلک اسکول پشاور میں منعقدہ تقریب میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے بھی شرکت کی جس میں ان کا کہنا تھا کہ سانحہ اے پی ایس کے پھول جیسے شہدا کو بھلایا نہیں جا سکتا ۔ انہوں نے کہا کہ دہشتگردوں کی ضرب کاری جاری ہے ۔ دہشتگردوں کی ضرب ہمیں ڈگمگانے سے قاصر رہی ۔انہوں نے کہاکہ تمام ادارے اور فوج ، متاثرہ بچوں اور والدین کے ساتھ ہیں۔ اے پی ایس کے شہید بچوں کا خون ہم پر قرض ہے۔سانحہ اے پی ایس نے ہمارے دلوں کو دہلا کر رکھ دیا ہے۔ آرمی چیف نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ہم قیام امن اور آخری دہشتگرد کے خاتمے تک چین سے نہیں بیٹھیں گے۔جو لوگ شہید ہوئے وہ یقیناً بہتر جگہ موجود ہیں لیکن ہمیں اس کا شعور نہیں ہے۔
انہوں نے تقریب کے شرکا سے خطاب میں کہا کہ میں بھی ایک بیٹا، بھائی، شوہر اور والد ہوں آپ کا دکھ سمجھ سکتا ہوں۔آرمی چیف کا کہنا تھا کہ آج کی تقریب کے انعقاد کا مقصد شہدا کی قربانیوں کو یاد رکھنا ہے۔ آرمی چیف نے کہا کہ راحیل شریف کی طرح میں بھی جذبہ قوت کے لیے شہید بچوں کی تصاویر دیکھتا ہوں۔میری دعا ہے کہ اللہ ہمیں حوصلہ اور لواحقین کو صبر دے۔ خیال رہے کہ آسانحہ اے پی ایس کی مرکزی تقریب آرمی پبلک اسکول پشاور میں منعقد کی گئی۔ جبکہ پشاور کے دیگر تعلیمی اداروں میں بھی سانحہ اے پی ایس کے شہدا کے لیے دعائیہ تقریبات کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔



کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…