ہفتہ‬‮ ، 12 ستمبر‬‮ 2026 

اشرف غنی نے صدر بنتے ہی پاکستان کو کس چیز کی پیشکش کی تھی ؟

datetime 12  دسمبر‬‮  2016 |

اسلام آباد (آئی این پی ) سابق وزیر خارجہ حنا ربانی کھرنے کہاہے کہ افغان صدر اشرف غنی جب حکومت میں آئے تو انھوں نے بے حد کوشش کی کہ پاکستان کے قریب ہوسکیں تاہم پاکستان نے وہ موقع گنوا دیا،جس وقت اشرف غنی نے اقتدار سنبھالا اس وقت افغانستان میں پاکستان کے ساتھ تعلقات میں بہتری کی کوشش کرنا غیر مقبول اقدام تھا تاہم اشرف غنی نے اس کے باوجود ایسا کرنے کی کوشش کی۔برطانوی نشریاتی ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے حنا ربانی کھر نے کہا کہمیرا یہ ماننا ہے اور یقین ہے کہ جو موقع صدر اشرف غنی نے صدر بننے کے بعد پاکستان کو دیا، اس حکومت نے اسے کھو دیا۔اس سوال کے جواب میں کہ صدر اشرف غنی پاکستان کے کون سے مطالبات یا خواہشات ماننے پر تیار ہوئے تھے.
حنا ربانی کھر کا کہنا تھا کہ ’اشرف غنی وہ چیزیں کرنے پر راضی ہوئے تھے جو کہ پاکستان کی دیرینہ خواہشات تھیں۔ صدر غنی یہ مان گئے تھے کہ وہ انڈیا سے ہارڈوئیر نہیں خریدیں گے، افغان کیڈٹس کو پاکستان ملٹری اکیڈمی میں تربیت دینے پر تیار ہو گئے تھے اور اس کے علاوہ ٹرانزٹ کی فیس بھی کم کرنے پر تیار تھے۔ سابق وزیر خارجہ نے کہا کہ ’جہاں تک بارڈر اور سکیورٹی کا تعلق ہے تو اس میں فوج کا جائز کردار ہے لیکن جہاں تک ’اکنامک اینگیج منٹ‘ کی بات ہے تو یہ سب کچھ حکومت کی ذمہ داری ہے۔ حنا ربانی کھر کا کہنا تھا کہ ’پہلے افغان حکومت کو یہ کرنا ہو گا کہ پاکستان میں رہنے والے افغان شہریوں کو وطن واپس لے جائیں، پھر اگر پاکستان میں کچھ لوگ رہ جائیں اور افغان حکومت ان کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کرے تو وہ عین جائز ہے، بالکل اسی طرح جائز ہے جس طرح پاکستان افغانستان سے تحریک طالبان پاکستان کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کرتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو اپنے عمل سے یہ ثابت کرنا ہو گا کہ ہمارے بس میں جو کچھ بھی ہے وہ ہم کریں اور اس کے بعد افغانستان سے توقعات رکھیں۔ پاکستان ہزاروں میل دور ممالک، چاہے وہ برطانیہ ہو یا امریکہ سے تو تعلقات بہتر بنانے کے لیے وسائل خرچ کرتا ہے لیکن جب خطے میں آئیں اور ہمسایہ ممالک کی بات کریں تو تعلقات میں وہ جوش اور ہم آہنگی نظر نہیں آتی۔ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں افغانستان کے ساتھ تعلقات کی جو کوششیں کیں موجودہ حکومت اسے آگے بڑھانے میں ناکام رہی ہے۔جہاں ہم چھوڑ کے گئے تھے، حالات وہاں سے بہت دور چلے گئے ہیں۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)


ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…